حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 22
َاھِن: ان لوگوں کی تین عادات ہیں ۱۔طبیعت میں یکسوئی ۲۔ہر وقت ناپاک رہنا۔۳۔خلوت میں رہتے ہیں۔اختلاط سے بچتے ہیں۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۸۲) ۳۴،۳۵۔۔ ۔کیا وہ کہتے ہیں اس کو ایسے ہی گھڑ لیا ہے۔نہیں بلکہ وہ ایمان نہیں لاتے پھر اس کی مانند کوئی حدیث لاویں اگر وہ سچے ہیں۔باری تعالیٰ فرماتا ہے۔کہ اگر اس کتاب کو تم لوگ مصنوعی جانتے ہو تو اس کی مثل کوئی کتاب لاؤ اور فرمایا ۔ ۔(بقرہ: ۲۴،۲۵) اور مکّہ میں شرفاء و شعرائے قریش کو فرمایا: ۔(بنی اسرائیل:۸۹) (فصل الخطاب حصّہ دوم طبع دوم صفحہ۹۲۔۹۳) ۳۶ تا ۳۸۔۔ ۔ایک آریہ کے اعتراض ’’ یہ عالم کس نے بنایا؟ کیوں بنایا؟ کب بنایا؟ کن اشیاء سے کس طرح بنایا ؟کے جواب میں فرمایا۔قرآن کریم اپنے ہر اک دعویٰ کی دلیل خود دیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔