حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 151 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 151

نَصُوْحًا: خالص توبہ۔نصوح کے معنے ہیں۔خالص رجوع۔اﷲ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا مومن کا کام ہے۔اس میں فرمایا ہے کہ خالص توبہ کا یہ نتیجہ ہو گا کہ تم پچھلی بدیوں کے بُرے نتائج سے محفوظ رہو گے اور آئندہ بدیوں کے جوش کو دبا سکو گے اور ایک نور تمہیں دیا جائے گا جس کی روشنی میں تم چلو گے اور ہر قسم کی ٹھوکر اور لغزش سے محفوظ رہو گے۔۱۰۔ ۔اس آیت میں منافقوں سے جہاد کا حکم ہوا ہے۔جس سے ظاہر ہے کہ منافق ظاہر ہو چکے تھے اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کو معلوم تھے۔اگر ظاہر نہ ہوتے تو ان کے ساتھ جہاد کیونکر ہو سکتا تھا۔اگر شیعوں کے کہنے کے مطابق عمرؓ منافق تھا۔تو حضرت علی رضی اﷲ تعالیف عنہ کو لازم تھا بلکہ ان پر فرض تھا کہ اس آیت کے ماتحت ان کے ساتھ جہاد کرتے۔مگر انہوں نے نہیں کیا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۹؍نومبر ۱۹۱۱ء) ۱۱۔  ۔اِمْرَأَۃَ نُوْح:ٍ حضرت نوحؑ کی بیوی کا نام علمۃ تھا۔اس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے کافروں کی مثال دو عورتوں کے ساتھ بیان کی ہے۔جیسے کہ حصرت نوحؑ اور حضرت لُوطؑ کی بیویاں تھیں مگر چونکہ وہ ایمان نہ لائیں۔اس واسطے طاہری تعلق اور رشتہ کام نہ آیا بلکہ ان کی بدگوئی اور مخالفت کی وجہ سے عذابِ الہٰی میں گرفتار ہو کر ہلاک ہو گئیں۔: یہاں خیانت سے مراد انبیاء کی بدگوئی اور عداوت ہے۔فسق و فجور کے واسطے جو لفظ آتا ہے وہ خُبث ہے۔یہ خبیثہ نہ تھیں بلکہ کافرہ تھیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۹؍نومبر ۱۹۱۱ء)