حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 149
۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے کوئی بات اپنی کسی بیوی کو کہی تھی۔اُس نے کسی اَور کے آگے ذکر کر دی۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کو الہامِ الہٰی کے ذریعے معلوم ہو گیا۔کہ اس بیوی نے اس راز کی بات کو آگے ذکر کر دیا ہے۔شیعوں نے کہا ہے کہ وہ بات یہ تھی کہ میرے بعد حضرت علیؓ خلیفہ ہوں گے اور سنّی کہتے ہیں کہ وہ بات یہ تھی کہ میرے بعد ابوبکر و عمر رضی اﷲ عنہما خلیفہ ہوں گے۔مگر جب اﷲ تعالیٰ نے اس بات کو مقیّد نہیں کیا اور بیان نہیں فرمایا کہ وہ کیا بات تھی۔تو ہمیں کیا ضرورت ہے کہ ہم کہیں کہ وہ یہ بات تھی یا وہ بات تھی۔: محبت بڑھانے کے لئے اپنی بیوی سے مخفی بات بھی بعض اوقات کہہ دینی چاہیئے لیکن اگر وہ ظاہر کر دے تو جتلا دینا چاہیئے۔(تشحیدالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ۴۸۴) ۵۔ ۔: جھکے ہوئے ہیں۔تمہارے دل تو پہلے ہی اﷲ تعالیٰ کی طرف جُھکے ہوئے ہیں۔کجی کا ترجمہ کرنا یہاں غلط ہے۔: اگر تم ایک دوسرے کی پیٹھ بھرو۔( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۹؍نومبر ۱۹۱۱ء) : توبہ کرو تو یہی تم سے توقع ہے۔کیونکہ تمہارے دل پہلے ہی سے ایسے ہیں کہ وہ جنابِ الہٰی میں جھکے ہوئے ہیں۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۸۵) ۶۔