حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 61 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 61

۱۷۔ ناامیدوں کو امیدیں دلانے والا ہے۔حضرت زکریا کی طرح مریم کا حال تھا۔اسی طرح مکّہ میں مدت سے بُت پرستی کا زور تھا۔کہاں امید ہو سکتی تھی کہ وہاں ایک نبی پیدا ہو گا۔یسعیاہ نبی کی کتاب میں فرمایا ہے کہ جس طرح ایک مطلقہ تباہ روزگار عورت ہو۔اسی طرح مکّہ کا حال ہے۔مگر میں خا وند والی سے زیادہ بھاگ لگاؤں گا۔اعلیٰ درجہ کے شہر عروس البلاد کہلاتے ہیں۔اسی طرح یسعیاہ کی ۴۲۔۵۴کی بابوں میں فرمایا ہے اور ایک نبی کے ذریعہ سے عرب کی روحانی ترقیکی پیشگوئی کی ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍اپریل،۵؍مئی۱۹۱۰ء) پہلے حضرت زکریاؑ کی دعاؤں کا ذکر کیا پھر مریم کا۔کہ کس طرح مشکلات کے بعد اﷲ تعالیٰ نے انہیں آسانیاں دیں۔اسی طرح رسول کریمؐ کو تسلّی دیتا ہے کہ دین اسلام ان مشکلات سے نکل جائے گا۔مومنین کو چاہیئے کہ اﷲ پر بڑی بڑی امیدیں رکھیں۔(بدر ۲۴؍اگست ۱۹۱۱ء صفحہ۲) : انفردت۔خرجت۔تنہا ہوئیں۔نکلیں۔جن میں تھیں ان سے الگ ہوئیں۔: شرقی کے معنے واسعًا۔فصیحًابہت لُغتوں میں پائے جاتے ہیں۔کیونکہ تنگ مکانوں میں دھوپ کُھل کر نہیں پڑتی۔پس شرقی وہ مکان ہے جس پر سورج اشراق کرتاہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍اپریل،۵؍مئی۱۹۱۰ء) : کے معنے ہیں۔فراخ مکان جس میں دھوپ ہوا خوب لگے۔کوئی نام تجویز کرنا غلط بات ہے۔(بدر ۲۴؍اگست ۱۹۱۱ء صفحہ ۲) ۱۸۔  : ان لوگوں سے کوئی تعلّق نہ رکھا یعنی یہ الگ رہنے لگیں۔: ہمارا کلام۔چنانچہ بہت فرشتوں کے ذریعے یہ کلام پہنچا۔اس لئے نا ؔفرمایا (اٰل عمران:۴۶)