حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 571 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 571

سُوْرَۃُ الْجَاثِیَۃِ مَکِّیَّۃٌ  ۷۔  : یعنی قرآن مجید کے بعد۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۸۱ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء) ۱۳۔  سچ فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے کہ ایمان ثریّا پر چلا جائے گا۔دو مولویوں کا ذکر سناتا ہوں۔ایک مولوی میرے پاس بڑے اخلاص و محبت سے بہت دن رہا آخر ایک دن مجھے کہا۔معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے پاس کوئی تسخیر کا عمل ہے جو آسائش کی تمام راہیں آپ کیلئے کُھلی ہیں اور اتنی مخلوقِ خدا آپ کے پاس آتی ہے۔میں نے کہا۔عملِ تسخیر کیا ہوتا ہے۔خدا نے تو فرما دیا کہ ۔سارا جہان تمہارے لئے مسخّر۔اس سے بڑھ کر اور کیا تسخیر ہو سکتی ہے۔انسان کو چاہیئے کہ دعا کرے۔دعا کی عادت ڈالے۔اس سے کامیابیوں کی تمام راہیں کُھل جائیں گی۔میری یہ بات سن کر وہ ہنس دیا اور کہا۔یہ تو ہم پہلے ہی سے جانتے ہیں۔کوئی عملِ تسخیر بتلاؤ۔ایک اور مولوی تھا۔اس نے مجھ سے مباحثہ چاہا۔میں نے اُسے سمجھایا۔تم لوگوں کی تعلیم ابتداء ہی سے ایسی ہوتی ہے کہ ایک عبارت پڑھی اور پھر اس پر اعتراض۔پھر اس اعتراض پر اعتراض۔اسی طرح ایک لمبا سلسلہ چلا جاتا ہے۔اس سے کچھ اس قسم کی عادت ہو جاتی ہے۔کہ کسی کے سمجھائے سے کچھ نہیں سمجھتے۔میں تمہیں ایک راہ بتاتا ہوں۔بڑے اضطراب سے خدا تعالیٰ کے حضور دعا کرو۔اس نے بھی یہی کہا کہ یہ تو جانتے ہیں۔