حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 435 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 435

کتبِ سابقہ میں اس کا ذکر یسعیا نبی۔رسالت مآبؐ کی ہجرت اور دشمنوں کے تعاقب کا ذکر کر کے عرب کی بابت الہامی کلام میں کہتا ہے۔’’ خداوند نے مجھ کو یوں فرمایا۔ہنوز ایک برس ہاں مزدور کے سے ٹھیک ایک برس میں قیدار کی ساری حشمت جاتی رہے گی۔اور تیراندازوں کے جو باقی رہے۔قیدار کے بہادر لوگ گھٹ جائیں گے‘‘ (یسعیا ۲۱ باب ۱۶،۱۷) میں نے زیادہ تفصیل پیشین گوئیوںمیں کی ہے۔غور کرو۔جنگ ِ بدر کیسی آیت اور کیسا معجزہ ہے۔قیدار عرب میں کون ہیں؟ کیا قریش ہی نہیں؟ کیا بدر میں ان کے بہادر لوگ گھٹ نہ گئے؟ (فصل الخطاب حصّہ اوّل ایڈیشن دوم صفحہ۷۰) تو کہہ۔تم کو وعدہ ہے ایک دن کا۔نہ دیر کرو گے اس سے ایک گھڑی۔نہ شتابی۔نبوّت کا دن ایک برس کا ہوتا ہے۔جیسے دن جو ساتھ صبح اور شام کے نبوّت میں لکھا ہو یا شام یا صبح سے شروع کرے تو چوبیس گھنٹے کا شمار ہوتا ہے ورنہ ایک سال کا۔(دیکھو اندرونہ بائبل صفحہ۳۱۳) پادری صاحبان غور کرو۔قرآن نے کیسا معجزہ دکھلایا کہ ان کے زوال کا وقت بھی بتا دیا اور یہ وعدہ جنگِ بدر میں پورا ہوا۔کیونکہ بدر کی لڑائی ٹھیک ایک برس بعد ہجرت کے واقع ہوئی یعنی ۱۵؍جولائی ۶۲۲ء کو آنحضرتؐ مکّے سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے اور ۶۲۳ء میں قریش سے جنگِ بدر ہوئی اور اس بدر کی لڑائی کو قرآن نے آیت یعنی بڑا نشان ٹھہرایا جو کامیابیٔ اسلام کا گویا آغاز ہے۔چنانچہ فرمایا۔  (آل عمران :۱۴)  (آل عمران:۱۲۴) یہاں وہ پیشگوئی جو یسعیا باب ۲۱ درس ۱۳ سے شروع ہوتی ہے۔پوری ہوئی۔عرب کی بابت الہامی کلام۔عرب کے صحرا میں تم رات کو کاٹو گے۔اے دوانیوں کے قافلو! پانی لے کے پیاسے کا استقبال کرتے آ ؤ۔اے تیما کی سر زمین کے باشندو! روٹی لے کے بھاگنے والے کے ملنے کو نکلو۔کیونکہ وے تلواروں کے سامنے سے ننگی تلوار سے اور کھنچی ہوئی کمان سے اور جنگ کی شدّت سے بھاگے ہیں۔کیونکہ خداوند نے مجھ کویوں فرمایا۔ہنوز ایک برس ہاں مزدور کے سے ٹھیک ایک برس قیدار کی ساری حشمت جاتی رہے گی۔اور تیراندازوں کی جو باقی رہی۔قیدار کے بہادر لوگ گھٹ جائیں گے کہخداوند اسرائیل کے خدا نے یوں فرمایا۔