حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 326 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 326

کہا کہ اسلام کی کیا حالت ہے۔اس نے بتایا ایک شخص اس کے قائم مقام ہوا۔کہا۔کہ مقامِ محمدؐ پربیٹھنے والا کون شخص ہو سکتا ہے۔اس نے کہا کہ ابوبکرؓ۔پوچھا کون ابوبکرؓ۔کہا۔ابن ابی قحافہ۔کہا کون۔ابی قحافہ؟ اس نے کہا تم، اس نے بڑے تعجّب سے پوچھا کہ بنو ہاشم کہاں گئے۔اس نے کہا سب نے اس کی بیعت کر لی۔پوچھا بنو اُمیّہ ؟ کہا وہ بھی تابع ہو گئے۔تب ابو قحافہ نے آسمان کی طرف سر اٹھایا اور کہا کہ اسلام حق ہے اور یہ سب اسی اﷲ کے سامان ہیں۔حضرت عمرؓ حج سے آتے ہوئے ایک درخت کے پاس کھڑے ہو گئے۔حذیفہ جو بے تکلّف تھا اس نے جرأت کی اور وجہ پوچھی۔آپؓ نے فرمایا کہ ایک وقت تھا کہ جب میں اپنے ایک اونٹ کو چراتا تھا اور اس درخت کے نیچے میرے والد نے مجھے بہت زجر و تو بیخ کی تھی اﷲ اب یہ وقت ہے۔کہ اونٹ تو کیا۔کئی آدمی میرے آنکھ کے اشارے پر جان دینے کو تیار ہیں۔یہ اسی لئے کہ ہم نے خدا کے مرسل کو مان لیا۔عبداﷲ بن عمرؓ گھر کی لپائی کر رہے تھے۔نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم آ گئے۔پوچھا یہ کیا کرتے ہو۔عرض کیا۔اَکُنُّ مِنَ الْمَطَرِ حضور!بارش سے محفوظ رہنے کے واسطے۔فرمایا۔بات قریب ہے! ملّاں تو اس کے یہ معنے کرتا ہے۔قیامت نزدیک ہے۔مگر میں تو اس کے یہی معنے کروں گا۔کہ وہ وقت نزدیک ہے جب تم بادشاہ ہو جاؤ گے اور خود لپائی کرنے کی ضرورت نہ رہے گی۔چنانچہ آپ عراق بھیجے گئے۔پھر قیصر وکسریٰ کی حویلیوں کے مالک ہوئے۔ایک اور صحابی کا ذکر ہے۔کہ چھپّر بنا رہے تھے۔تو نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے انہیں بھی فرمایا کہ بات قریب ہے۔یعنی عنقریب تم حکمران ہونے والے ہو۔اور ان چھپّروں کی بجائے محلّوں میں رہو گے۔قادیان میں کیا ہے؟ لباس۔زبان۔منظر وغیرہ کے اعتبار سے کچھ بھی نہیں! مگر خدا کا نام لینے والا ایک شخص پیدا ہوا۔تو اس کے نفوسِ قدسیہ کے فیض سے تم ( تین سو بندہے بیٹھے ہو) بو علیؒ سینا کے ایک شاگرد نے کہا۔استاد آپ نبوّت کا دعویٰ کرو۔اس وقت تو خاموش رہے۔بعد ازاں ایک موقعہ پر جبکہ ہوا تیز و سرد تھی اور پانی یخ بستہ۔اس نے شاگرد کو حکم دیا کہ کپڑے اتار کر اس میں کود پڑو۔اس نے استعجاب کی نظر سے دیکھا۔بو علیؒسینا نے پوچھا۔کیوں؟ کہا۔آپ کو جنون تو نہیں ہو گیا؟ اس پر حکیم بولا نادان تیرے جیسے فرماں برداروں کی امید پر نبوّت کروں؟ دیکھ ایک محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے پیرو تھے۔کہ خون بہا دئے۔اور گھمسان کی جنگوں میں جہاں موت سامنے دکھائی دیتی۔سر کٹوانے کا حکم دیا اور انہوں نے چُوں تک نہ کی۔اور ایک تُو ہے کہ جانتا ہے