حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 21 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 21

خصوصیت سے مسلمان مثلاً بنو اُمیّہ و بنو عباس مخاطب ہیں کہ اب تم اس باغ ( ملک کنعان) کے مالک بننے والے ہو۔دیکھو کوئی ایسا کام نہ کرنا جو اﷲ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث ہو جائے۔ھَشِیْمًا: چُورا چُورا۔دنیاداروں کے پاس جب دنیا بہت جمع ہو جاتی ہے تو وہ غالباً متکبّر اور آخر کار غافل ہو جاتے ہیں۔اس لئے اﷲ تعالیٰ انہیں ذلیل اور آخر مفلس کر دیتا ہے۔امراء کا یہ حال ہے کہ جس کے پاس کچھ روپیہ جمع ہو جائے وہ مسجد میں جانا ہتک عزّت سمجھتا ہے۔اور علماء اس کے نزدیک ارذل ترین مخلوق ہوتے ہیں۔اس میں گو ان علماء دنیا طلب کا بھی قصور ہے۔مگر امراء چاہیں تو علماء کے گروہ میں بہت اصلاح ہو سکتی ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۷،۲۴مارچ ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۵۸) : یہ عیسائی مخاطب ہیں۔متی ۴ باب ۹ آیت متی ۷ باب ۱۳ آیت۔متی ۱۹ باب ۲۴ آیت۔ان میں لکھا ہے کہ دولت مل سکتی ہے شیطان کے سجدہ سے۔چنانچہ ان لوگوں نے کیا اور دولت مند ہوئے اور لکھا ہے کہ دولت مند خدا کی بادشاہت میں داخل نہیں ہوتا۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۶۵ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء) ۴۷۔  : اعمالِ صالحہ۔نماز میںسُبْحَانَ اﷲ۔لَآ اِلٰہَ اِ لَّا اﷲُ وَاﷲُ اَکْبَرُ اور کل اعمال جو رضائے الہٰی کے موجب ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۷،۲۴مارچ ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۵۸ ) ۴۸۔  جبال سے مراد بادشاہ اور بڑے بڑے سردار ہیں۔جو عذاب الہٰی کے باعث ان کا نام و نشان مِٹے۔اور ظاہری پہاڑ بھی ہوں تو کیا عجب ہے۔آخر تمام مخلوق میں تغیّر آ