حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 233 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 233

   : اندھوں سے لوگ قسم قسم کی پرہیزیں کرتے ہیں۔بعض احمق آدمی نابینا کے پیچھے نماز پڑھنے کو مکرُوہ سمجھتے ہیں۔جو بے بنیاد بات ہے حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلّم نے مدینہ منوّرہ میں حضرت ابن امّ مکتوم کو اپنا جانشین بنایا۔جس میں نماز پڑھانا شامل ہے۔…:ہندوستان میں لوگ اکثر اپنے گھر میں خصوصاً ساس بہو کی لڑائی کی شکایت کرتے رہتے ہیں۔قرآنِ مجید پر عمل کریں تو ایسا نہ ہو۔دیکھو اس میں ارشاد ہے۔کہ گھر الگ الگ ہوں۔ماں کا گھر الگ۔اولاد شادی شدہ کا گھر الگ۔: جب اپنے گھروں میں جاؤ تو سلام علیک کہو۔حدیث میں آیا ہے کہ اگر گھر میں کوئی نہ ہو۔تو الَسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اﷲِ الصَّالِحِیْنَ کہہ لیا کرو۔اکثر گھروں میں اس کا عملدر آمد نہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان گھروں میں سلامتی بھی کامل نہیں۔سِفْرُ السَّعَادَۃ جنہوں نے لکھی ہے۔وہ ہندوستان میں آئے۔آٹھویں صدی کو آئے۔بڑی خوبی کے آدمی تھے۔انہوں نے لکھا ہے کہ ہندوستان میں بادشاہوں کو سلام علیک کہنے کارواج نہیں۔اس کا یہ نتیجہ دیکھ لیں گے۔چنانچہ سلطنت ہی نہ رہی۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۷؍جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۸۳) ۶۴۔