حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 108 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 108

میرے رب میرے علم میں ترقی بخش۔(نورا لدّین طبع سوم صفحہ ۱۳ دیباچہ) پہلا الہام جو ہمارے سیّد و مولیٰ محمد مصطفیٰ صلی اﷲ علیہ وسلم کو ہوا وہ بھی   (العلق:۲) ہی تھا اور پھررَبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا کی دعا تعلیم ہوتی ہے۔اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ علم کی کس قدر ضرورت ہے۔سچّے علوم کا مخزن قرآن شریف ہے تو دوسرے لفظوں میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ قرآن شریف کے پڑھنے اور سمجھ کر پڑھنے اور عمل کے واسطے پڑھنے کی بہت بڑی ضرورت ہے۔اور یہ حاصل ہوتا ہے تقوی اﷲ سے۔مامور من اﷲ کی پاک صحبت میں رہ کر۔یہ وہ لوگ ہوتے ہیں۔جو اپنی سلامتی صدقِ نیت۔شفقت علی خلق اﷲ۔غَایَۃُ البُعْدِ عِنِ الْاَغْنِیَآئِ۔آسانی۔جودت طبع۔سادگی دوربینی کی صفات سے فائدہ پہنچاتے ہیں۔(الحکم ۱۷؍ اپریل ۱۹۰۱ء صفحہ ۴) قرآن مجیدپر غور کرنے سے مجھے یہ معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم ( جو اعلم باﷲ اور جامع کمالاتِ نبوّت و انسانیت ہیں) کو اﷲ تعالیٰ نے ایک دعا تعلیم فرمائی۔۔اے میرے رب میرا علم زیادہ کر دے۔میں بھی کہتا ہوں رَبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا(آمین) تو پھر اورکون شخص ہے جس کو علم کی ضرورت نہیں۔یہ آیت جہاں فضیلتِ علم کو ظاہر کرتی ہے وہاں دوسری طرف ضرورتِ علم پر بھی دلیل ہے۔(الحکم ۲۸؍ جون ۱۹۱۸ء صفحہ ۴) : بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ آدم باوجود حکمِ تاکیدی کے کس طرح بھول گیا۔میں انہیں پوچھتا ہوں۔گھر سے اہتمام کے ساتھ مسجد میں دو رکعت نماز پڑھنے آتے ہیں۔اور پھر اس میں سہو ہو جاتا ہے۔یہ کیوں؟ : حضرت آدم علیہ السلام نے گناہ کا ارادہ نہ کیا تھا۔ارادہ سے اس شجرہ کو نہیں کھایا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۹؍جون ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۶۹) اگرچہ آدم علیہ السلام شیطان کے کہنے پر نہ چلے۔مگر مدّت کے بعد وہ درخت کے پاس جانے کی الہٰی ممانعت کو بھُول گئے۔ایسی بھُولوں سے بچنے کے واسطے باری تعالیٰ نے ہمارے ہادی اور سردار عالمِ رحمت عالمیاں کو قرآن کریم کے یاد رکھنے کی تاکید کرتے ہوئے آدم علیہ السلام کا قصّہ فرمایا ہے۔۔۔اوراسی نسیان پر آدم علیہ السَّلام کو (طٰہٰ: ۱۲۲) فرمایا۔اور جلدی مت کر قرآن سے۔قبل