حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 566
اور سب اپنے اپنے موقعہ پر دکھائے گئے مگر اس رنگ میں جو بشر رسول کے مناسب تھے۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۶۴) : آہ۔نو چیزیں انہوں نے مانگی ہیں۔بدقسمتی سے لوگوں نے سمجھا ہے کہ یہ باتیں پوری نہیں ہوئیں۔اس لئے طرح طرح کی بدگمانیاں کی ہیں۔ذرا ابھی تدبّر کرتے تو معلوم ہو جاتا کہ یہ باتیں بطور سوال صحیح پیش ہوئیں۔پارہ اوّل میں ہے اَنَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ(بقرہ:۲۶)یعنی مومن کیلئے جنّات ہوں گی۔جس میں کھجور انگور سب آ گئے۔اسی میں آیا ہے(بقرہ:۲۶) پھر خدا نے ہی فرمایا (البقرۃ: ۲۱۱)پھر ایک جگہ فرمایا ہے۔ (الرحمن:۵۵)پھر فرمایا (الرحمن:۵۷) اور فرمایا (الرحمن:۷۱) پھر سورۃ واقعہ میں اشارہ کیا۔یَطُوْفُ عَلَیْھِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْن(آیت:۱۸) غرض جب قرآن مجید میں ایسے ایسے تمام دعوے تھے۔تو پھر اگر انہوں نے ایسا مطالبہ کیا۔تو کیا بے جا کیا۔جواب دیکھو کیسا صحیح ہے کہ اے نبی کہہ دے۔میرا رب پاک ہے۔اس نے جھوٹے وعدے نہیں کئے۔ضرور ایسا ہو گا۔مگر مَیں بشر رسول ہوں۔چنانچہ جب صحابہؓ نے عراق۔عجم۔شام۔عدن فتح کیا تو صحابہؓ کے قبضہ میں بادشاہوںکے گھر آئے۔انکی بیٹیاں بھی نکاح میں آ گئیں۔گھر بھی سونے چاندی کے تھے باغات بھی تھے۔بلکہ مدینہ مکّہ میں نہریں آئیں۔خدا کا ان پر عذاب بھی آیا۔ملائکہ بھی نصرت کو آئے آپؐ کو معراج بھی ہوا۔قرآن ایسی کتاب بھی ملی۔غرض سب کچھ ہوا۔مگر یہ سب کچھ پورا ہوا۔اسی طرح جس طرح بشر رسولوں کی پیشگوئیاں پوری ہوتی ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳؍مارچ ۱۹۱۰ء) کفّار نے یہ اقتراحی معجزات طلب نہیں کئے بلکہ انہوں نے ان کا مطالبہ قرآنِ مجید اور کتب سابقہ کی بناء پر اپنے فہم کے مطابق کیا۔چنانچہ ان کے اس مطالبہ میں آیات الرحمۃ بھی ہیں۔آیات الغضب بھی اور آیاتِ مشترکہ بھی۔آیات الرحمۃ تو یہ ہیں: ۱۔ہمارے لئے زمین سے چشمہ جاری کر دو۔۲۔تمہارے پاس کوئی باغ کھجور اور انگور کا ہو جائے۔آیات الغضب: ا۔آسمان کو ہم پر ٹکڑے ٹکڑے گرا دو۔۲۔اﷲ اور فرشتوں کو سامنے لاؤ۔