حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 53 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 53

  : تم سب نے تجربہ کیا ہو گا کہ بعض اوقات انسان کا جی چاہتا ہے کہ آج عبادت ہی کریں۔بعض آدمیوں کو دیکھکر بھی عبادت کو جی چاہتا ہے۔اسی طرح بعض موقعوں پر خدا سے غفلت پیدا ہو جاتی ہے۔بعض انسان ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے ملن سے خدا سے نفرت پیدا ہو کر دنیا کی خواہش پیدا ہوتی ہے اور بعض شخصوں کو دیکھ کر دنیا سے دل سرد ہو جاتا ہے اور آخرت کا خیال آ جاتا ہے۔یہ ایک دُنیا کے عجائبات میں سے ہے۔یہ دونوں حالتیں قریباً ہر انسان پر وارد ہوتی ہیں۔بعض کھانے۔چارپائی اور مکان میں غفلت پیدا ہوتی ہے۔نبی کریمؐ کو حکم ہے کہ ایسی جگہ کو بدل دو۔چارپائیوں کے بستروں کے بدلنے سے بھی حالت بدل جاتی ہے۔یہاں اسی مسئلہ کو خدا نے بیان کیا۔جس ملک میں رہنے سے دین کو بھُولے اُسے کیوں نہ چھوڑ دے۔فرشتے ان پر سختی کریں گے اور کہیں گے کہ تم ایسے مقاموں میں رہے کیوں؟ کیا خدا کی زمین فراخ نہ تھی۔تم اس جگہ سے یہ سبق سیکھو۔جہاں غفلت کی صحبت ہو۔اس میں مت بیٹھو۔ایک بزرگ نے مجھے کہا کہ تم کو کئی دن سے نہیں دیکھا۔میں نے کہا ہاں سُستی ہو گئی۔فرمایا تم نے قصاب کی دوکان نہیں دیکھی؟ آپ کا مطلب یہ تھا کہ دیکھو قصاب جب دو چھُریاں آپس میں رگڑتا ہے تو تیز ہو جاتی ہیں۔اسی طرح صحبتِ صادقین کا فائدہ ہے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۹؍ جولائی ۱۹۰۹ء) ۱۰۱۔