حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 516
ا تھی۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۰؍فروری۱۹۱۰ء) ۱۲۱۔ انسان کی فطرت میں یہ خواہش ہے۔کہ وہ معزّز ہو۔اس کی اولاد اچھی ہو۔اس کا ذکرٖ خیر دُنیا میں چلے۔خدا کا اس سے بہت تعلق ہو۔وہ مَر کر بھی عزّت پائے۔ابراہیم علیہ السلام ان تمام انعامات سے متمتّع ہوئے۔: ایک معنے امام کے ہیں۔دوسرے معنے گروہ ہیں لَیْسَ عَلَی اﷲِ لِمُسْتَنْکَرٍ اُن یَجْمَعَ الْعَالَمَ فِی وَاحِدٍ۔حضرت ابراہیم علیہ السّلام اس لحاظ سے ایک قوم تھے۔اب بتاتا ہے کہ اس کی اولاد میں سلطنت ہے۔نبوّت ہے۔تمام جہان کے لوگ اس پر سلام بھیجتے ہیں۔تورات میں ہے۔جو تجھ پر اے ابراہیم۔برکت بھیجے۔میں اس کا گھر برکت سے بھر دوں گا۔ابراہیم میں کیا خوبی تھی۔ان آیات میں کچھ ذکر ہے۔: کے معنے ہیں مستقیم راہ پر چلنے والا۔عربی میں جس کے پاؤں ٹیڑھے ہوں اسے بطور دُعا اَحْنَفْ کہتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۰؍فروری۱۹۱۰ء) ۱۲۲۔ : حضرت نبی کریم صلی اﷲعلیہ و آلہٖ وسلم نے عورتوں کو ایک دفعہ فرمایا۔تم بہت عورتیں دوزخ میں جاؤ گی۔ایک عورت نے پوچھا کیوں؟ تو آپؐ نے فرمایا کہ تم اﷲ کی نعمتوں کا کُفر کرنے والی ہو۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ عورت معمولی بات پر ناراض ہو تو باوجود بہت سی آسائشوں کے کہہ اُٹھتی ہے میں نے اس گھر میں ایک لحظہ آرام نہیں پایا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہیلَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ (ابراہیم:۸)اﷲ شُکر سے مال کو بڑھا دیتا ہے۔مگر بہت ہیں جو اس سہل علاج کو چھوڑ کر کفر کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ایک شاعر نے کہا