حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 391
۲۴۔ : بناؤ سنگار اور تمام سامان کر کے کہا کہ ایسے آؤ۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍دسمبر ۱۹۰۹ء) ۲۵۔ ھَمّن: یوسفؑ نے اس عورت کو روکنے میں زور لگایا۔: اگر اﷲ تعالیٰ کی تعلیم اور احکام دربارۂ عفّت اس کو نہ ملے ہوتے۔تو وہ اس عورت سے بچنے کی کوشش نہ کرتا اور اس کو نصیحت کرنے میں زور نہ لگاتا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍دسمبر ۱۹۰۹ء) حضرت یوسف علیہ الصلوٰۃ و السلام نے محض خدا تعالیٰ کے خوف سے ایک عورت کے ساتھ بدکاری کرنے سے پرہیز کیا۔ورنہ ایک عام آدمی بھی جس کی نگاہ بہت ہی چھوٹی اور پست ہو کہہ سکتا ہے کہ اس تعلق سے وہ اس عزّت سے جو اس وقت اُن کی تھی زیادہ معزّز اور آسودہ حال ہوتے۔اگرچہ یہ خیال ایک دَنیِ اُّلطبع آدمی کا ہو سکتا ہے کہ کسی بدی اور بدکاری میں کوئی آرام۔آسودگی کی عزّت مل سکتی ہے کیونکہ ارشادب الہٰی اس طرح پر ہے کہ ساری عزّتیں اﷲ ہی کے لئے ہیں۔اور پھر معزّز ہوتا رسول اور مومنیں کے لئے لازمی ہے۔بہر حال جو کچھ بھی ہو۔کمینہ فطرت۔کم حوصلہ انسان عاقبت اندیشی سے حصّہ نہ رکھنے والا کہہ سکتا ہے کہ ان کو آرام ملتا ہے۔مگر حصرت یوسفؑ نے اس عزّت۔اس آرام اور دولت پر لات ماری اور خدا تعالیٰ کے حکم کی عزّت کی۔قید قبول کی مگر احکامِ الہٰی کو نہ توڑا۔نتیجہ کیا ہوا۔وہی یوسف اسی مِصر میں اسی شخص کے سامنے اس عورت کے اقرار کے موافق معزّز اور راست باز ثابت ہوا۔وہ امین ٹھہرایاگیا۔اور جس مرتبہ پر پہنچا تم میں سے کوئی اس سے نا واقف نہیں… عادت اﷲ اور سُنّت اﷲ اسی طرح پر واقعہ ہوئی ہے۔کہ کوئی محسن ہو۔کبھی ہو۔اس کو اسی طرح پر جزا ملتی ہے جیسے یوسف علیہ السلام کو ملی۔(الحکم ۱۷؍ فروری ۱۹۰۴ء صفحہ ۷)