حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 218 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 218

دیکھو۔یہ کیسے متکبّر اور بے پرواہ لوگ ہیں۔شعیبؑ نبی کو جب لوگوں نے کہا تو انہوں نے جواب دیا مَا یَکُوْن لَنَا یعنی ہم تو کبھی تمہارے مذہب میں نہ آئیں گے پھر فرمایا۔ہاں اگر خدا چاہے تو۔کیونکہ اس کا ارادہ زبردست ہے یہ پاس ادب ہے جو آجکل کے گستاخوں سے جا چکا ہے۔دیکھو۔ایک ناممکن بات پر پیغمبر نے خدا کے عظمت اور جبروت و جلال کا ادب کیا ہے۔تو افسوس اس انسان پر جو بلاسوچے سمجھے مجھے کہتا ہے کہ یہ کام یوں ہو جائے اور میں یوں نہ کروں گا۔(بدر ۲۴؍ستمبر ۱۹۰۸ء صفحہ۲) ۔اور لوگوں کو انکی چیزیں کم نہ دو اور زمین میں فساد نہ مچاتے پھرو۔(نورالدین ایڈیشن سوم صفحہ۱۸۔یج) ۹۶،۹۷۔    : بڑھ گئے۔آسودگی کے ساتھ۔تکبّر۔ظلم۔تحقیر۔پانچ گناہ اآجاتے ہیں۔: مجرموں کو ہلاک ہوتے ہوئے دیکھ کر گناہوں سے اجتناب کرتے۔: الہامات۔الہام کے صدق کا ایک یہ نشان بھی ہے۔کہ اس کے ساتھ پہرہ ہوتا ہے۔چنانچہ فرمایا(جن:۲۸)(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۳۰؍ستمبر ۱۹۰۹ء) : تو پکڑا ہم نے ان کو بدلہ ان کی کمائی کا۔(فصل الخطاب حصّہ دوم صفحہ۱۵۷)