حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 12
: ایک عورت کا خاوند آیا کہ میری بیوی کو آتشک ہو گیا ہے۔وہ بی بی بہت نیک تھی۔مجھے یقین نہ آیا۔آخر اس نے اقرار کیا کہ مجھے یہ خاوند پسند نہیں۔اس لئے بہانہ بنایا ہے۔: عورت سے کوئی مکروہ اَمر دیکھو تو نیک برتاؤ کرے۔اس میں تمہارے لئے خیرِ کثیر ہے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۲؍جولائی ۱۹۰۹ء) : حلال نہیں تم کو کہ میراث میں لو عورتیں زور سے۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل صفہ ۴۶۰) : کہ عورت کو مُشقّت میں ڈالو۔اور خواہ مخواہ ان کو اپنی ورثہ سمجھنے لگو۔(تشحیذالاذہان ستمبر ۱۹۱۳ء جلد۸ نمبر ۹) وَ : اور جائز نہیں کہ تم اکراہ سے عورتوں کے وارث بن جاؤ۔ناظرین ! منصفانہ طور پر اس آیت کے معنی میں غور کرو۔تاکیدِ معاشرت کے واسطے قرآن مذہبی طور پر کیسے سخت اور لطیف طرز اختیار کرتا ہے۔اس آیت میں فرمایا۔اگر کسی باعث سے بی بی نا پسند اور ناگوار ہو تب بھی سلوک ہی کرو۔اس سلوک کے بدلے ہم تم کو بہت ہی بھلائی دیں گے۔(فصل الخطاب ایڈیشن دوم جلد اول صفحہ ۴۹۔۴۸) عورت مرد کے تعلّق کی آپس میں ایسی خطرناک ذمّہ داری ہوتی ہے کہ بعض اوقات معمولی معمولی باتوں پر حُسن و جمال کا خیال بھی نہیں رہتا اور عورتیں کسی نہ کسی نہج میں ناپسند ہو جاتی ہیں اور ان کے کسی فعل سے کراہت پیدا ہوتے ہوئے کچھ اور کا اور ہی بن جاتا ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ نے فرمایا۔ ۔پس عزیزو! تم دیکھو۔اگر تم کو اپنی بیوی کی کوئی بات ناپسند ہو تو تم اس کے ساتھ پھر بھی عمدہ سلوک ہی کرو۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔ہم اس میں عمدگی اور خوبی ڈال دیں گے ہو سکتا ہے کہ ایک بات حقیقت میں عمدہ ہو اور تم کو بُری معلوم ہوتی ہے۔(الحکم ۳۰؍ستمبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۶۰۵)