حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 448 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 448

حقائق الفرقان ۴۴۸ سُورَةُ النَّصْرِ سُوْرَةُ النَّصْرِ مَدَنِيَّةٌ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ - میں اس باعظمت اللہ کے نام سے پڑھنا شروع کرتا ہوں جس کی مددیں دل سے میرے لئے ہو چکی تھیں عمل پر اس کا ظہور کرنے والا ہے۔۲ تا ۴۔اِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ - وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا - فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرُهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا - ترجمہ۔جب آئی مدد اللہ کی اور فتح اور تو نے دیکھا لوگوں کو کہ داخل ہوتے ہیں بیچ دین اللہ کے فوج در فوج پس تسبیح کر ساتھ تعریف رب اپنے کے اور اس سے استغفار کر تحقیق وہ ہے پھر آنے والا۔تفسیر۔جب اللہ تعالیٰ کی نصرت ظاہر ہوئی اور مکہ فتح ہو گیا۔اور تو نے دیکھ لیا کہ لوگ فوج در فوج دین اسلام میں داخل ہو رہے ہیں۔تو خدا تعالیٰ کی تسبیح کر اور اس کی تعریف کر اور اس سے مغفرت طلب کر۔وہ بہت ہی رجوع برحمت کرنے والا ہے۔یہ سورہ شریف مدنی ہے۔یعنی مدینہ منورہ میں نازل ہوئی تھی۔اس میں بسم اللہ شریف کے بعد تین آیتیں ہیں اور انیس کلمے اور اناسی حروف ہیں۔اذا کے معنے ہیں۔جب کہ۔جب یہ لفظ ماضی پر آوے تو معنے استقبال کے دیتا ہے۔اس واسطے اذا جاء کے معنے یہ بھی کئے گئے ہیں کہ جب آوے گی کیونکہ یہ سورۃ بطور ایک پیشگوئی کے نازل ہوئی تھی کہ اس وقت تو اسلام تنگی اور تکالیف کی حالت میں ہے اور سب صحابہ مہاجرین کے دل میں یہ خیال ہے کہ وہ اپنے وطنوں سے نکالے گئے اور ان کی تعداد قلیل ہے اور ان کے دشمن شہر مکہ میں آرام