حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 314
حقائق الفرقان ۳۱۴ سُوْرَةُ الْقَارِعَةِ سُوْرَةُ الْقَارِعَةِ مَكِيّة بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - اُس بابرکت اللہ کے اسم شریف سے پڑھتا ہوں جو رحمن اور رحیم ہے۔۲، ۳- الْقَارِعَةُ - مَا الْقَارِعَةُ - ترجمہ۔کھڑکھڑا ڈالنے والی۔کیا ہے وہ کھڑ کھڑا ڈالنے والی۔- الْقَارِعَةُ - قَارِعَة قَرَعَ سے مشتق ہے۔قرع کے معنے کسی چیز کو سختی اور شدت سے بجانے اور مارنے کے ہیں۔خوفناک حادثہ اور مصیبت کو بھی قارعتہ اس لئے کہتے ہیں۔قرآن شریف میں دوسری جگہ فرمایا ہے۔وَلَا يَزَالُ الَّذِيْنَ كَفَرُوا تُصِيبُهُم بِمَا صَنَعُوا قَارِعَة - (الرعد:۳۲) معلوم ہوا کہ دنیا کا عذاب بھی قارعہ ہے اور آخرت کی مصیبت بھی قارعہ ہے۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۱۹ ستمبر ۱۹۱۲ء صفحه ۳۴۰) ۵- يَوْمَ يَكُونُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوثِ - ترجمہ۔ایک دن لوگ بکھرے ہوئے ہوں گے پروانوں کی طرح۔تفسیر - فراش : ٹڈیاں بلکہ کل پردار چھوٹے چھوٹے جانور جو چراغ کے گرد جمع ہو جاتے ہیں۔مَبْثُوث : منتشر۔بکھرے ہوئے (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۱۹ ستمبر ۱۹۱۲ء صفحه ۳۴۰) وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوشِ - ترجمہ۔اور ہو جائیں گے پہاڑ جیسے سرخ اون دھنکی ہوئی۔لے اور کافروں کو تو ہمیشہ پہنچتی رہے گی ان کے کرتوتوں کے سبب مصیبت۔