حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 255 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 255

حقائق الفرقان ۲۵۵ سُوْرَةُ الَّيْل قسم شاہد کے قائم مقام سبھی جاتی ہے لہذا اسی بناء پر خدائے تعالیٰ نے اس جگہ شاہد کے طور پر اس کو قرار دیدیا ہے۔پس خدائے تعالیٰ کا یہ کہنا کہ قسم ہے سورج کی اور اس کی دھوپ کی درحقیقت اپنے مرادی معنے یہ رکھتا ہے کہ سورج اور اس کی دھوپ یہ دونوں نفس انسان کے موجود بالذات اور قائم بالذات ہونے کے شاہد حال ہیں۔کیونکہ سورج میں جو جو خواص گرمی اور روشنی وغیرہ پائے جاتے ہیں یہی خواص مع شئے زائد انسان کے نفس میں بھی موجود ہیں۔مکاشفات کی روشنی اور توجہ کی گرمی جو نفوس کا ملہ میں پائی جاتی ہے اس کے عجائبات سورج کی گرمی اور روشنی سے کہیں بڑھ کر ہیں۔سو جبکہ سورج موجود بالذات ہے تو جو خواص میں اس کا ہم مثل اور ہم پلہ ہے بلکہ اس سے بڑھ کر یعنی نفس انسان۔وہ کیونکر موجود بالذات نہ ہو گا۔اسی طرح خدائے تعالیٰ کا یہ کہنا کہ قسم ہے چاند کی۔جب وہ سورج کی پیروی کرے۔اس کے مرادی معنے یہ ہیں کہ چاند اپنی اس خاصیت کے ساتھ کہ وہ سورج سے بطور استفادہ نور حاصل کرتا ہے۔نفس انسان کے موجود بالذات اور قائم بالذات ہونے پر شاہد حال ہے۔کیونکہ جس طرح چاند سورج سے اکتساب نور کرتا ہے۔اسی طرح نفس انسان کا جو مستعد اور طالب حق ہے ایک دوسرے انسان کامل کی پیروی کر کے اس کے نور میں سے لے لیتا ہے۔اور اس کے باطنی فیض سے فیض یاب ہو جاتا ہے۔بلکہ چاند سے بڑھ کر استفادہ نور کرتا ہے کیونکہ چاند تو نور حاصل کر کے پھر چھوڑ بھی دیتا ہے مگر یہ کبھی نہیں چھوڑتا۔پس جبکہ استفادہ نور میں یہ چاند کا شریک غالب ہے اور دوسری تمام صفات اور خواص چاند کے اپنے اندر رکھتا ہے تو پھر کیا وجہ کہ چاند کو تو موجود بالذات اور قائم بالذات مانا جائے مگر نفس انسان کے مستقل طور پر موجود ہونے سے بکلی انکار کر دیا جائے۔غرض اسی طرح خدا تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کو جن کا ذکر نفس انسان کے پہلے قسم کھا کر کیا گیا ہے اپنے خواص کے رُو سے شواہد اور ناطق گواہ قرار دیکر اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ نفس انسان واقعی طور پر موجود ہے اور اسی طرح ہر یک جگہ جو قرآن شریف میں بعض بعض چیزوں کی