حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 223 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 223

حقائق الفرقان لے فَذَكِّرُ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكر۔وس ۲۲۳ ۲۳ - لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ - ترجمہ۔تو ان پر کوئی کو توال اور سز اول تو نہیں۔سُوْرَةُ الْغَاشِيَة فصل الخطاب لمقد مہ اہل الکتاب حصہ اوّل صفحہ ۷) تفسیر۔مُصنطرس اورص دونوں سے لکھا جاتا ہے۔اس کے معنے جابر کے ہیں۔نبی کا کام صرف تبلیغ کر دینا ہے۔جو نہ مانے۔ان پر نبی جبر نہیں کیا کرتے۔ور (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه یکم اگست ۱۹۱۲ء صفحه ۳۲۳) -۲۵ فَيُعَذِّبُهُ اللهُ الْعَذَابَ الْأَكْبَرَ - ترجمہ۔تو اللہ اسے بہت بڑے عذاب میں گرفتار کرے گا۔تفسیر۔اس آیت شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ قحط کے عذاب کے علاوہ کوئی اور بھی عذاب ہے جس کا نام عذاب اکبر رکھا ہے۔دوسری جگہ فرمایا۔وَ نُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الاكبر - (السجده: ۲۲) سوره دخان و سورۃ المومنون میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت کے قحط کی آیتوں سے سورۃ الغاشیہ کے الفاظ ملتے جلتے ہیں۔اس لیے حدیث الغاشیہ سے مراد قحط شدید کی پیشگوئی ہم نے مراد لی ہے۔اور بھی سورۃ الغاشیہ میں ایسے الفاظ لائے گئے ہیں۔جیسے ضريع، لايسين ، عاملة ، نَاصِبَة وغیرہ قحط ہی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں حدیث الغاشیہ سے بطور معارف کوئی اور بھی قسم عذاب کی مراد ہو تو ممکن ہے۔کیونکہ کلام الہی ذوالمعارف ہوتا ہے تاوقتیکہ تضاد نہ ہو۔سارے ہی معارف صحیح سمجھے جاسکتے ہیں۔پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورۃ الاعلیٰ اور سورۃ الغاشیہ کو اکثر نماز جمعہ اور عیدین میں ان سورتوں کے ذوالمعارف ہونے کی وجہ سے تلاوت فرماتے تھے۔نماز عشاء میں بھی ان دو سورتوں کا کثرت سے پڑھنا آپ کا ثابت ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه یکم اگست ۱۹۱۲ صفحه ۳۲۳) لے سو تو سمجھا۔تیرا کام ہی ہے سمجھانا۔۲ اور ضرور ہم ان کو چکھائیں گے بڑے عذاب کے سوا دنیا کے عذاب سے (ہی)۔