حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 11
حقائق الفرقان 11 سُوْرَةُ نُوح سَمَاء کے معنے بادل کے ہیں۔بارانِ رحمت ہوگی۔غلہ اور ہر شئے ارزاں ہوگی۔سماء کے معنے بارش کے بھی آئے ہیں۔ایک شاعر کہتا ہے۔إِذَا نَزَلَ السَّمَاءُ بِأَرْضِ قَوْمٍ رعَيْنَاهُ وَ إِنْ كَانُوا غَضَابًا يمددكم - بڑھائے گا۔مال اور بیٹے بہت ہوں گے۔ان آیات میں حضرت نوح علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اگر تم استغفار کرو تو سب برکتیں حاصل ہوں گی۔گناہ بخشے جائیں گے۔بارش ہوگی۔ہر شے ارزاں ملے گی۔مال و دولت بہت ہو گی اولا د کی کثرت ہوگی ، باغ ہوں گے، نہریں جاری ہوں گی۔ان آیات سے استغفار کی فضیلت ظاہر ہے۔استغفار کیا ہے؟ سچے دل سے اللہ تعالیٰ کے حضور میں پچھلے گناہوں کی سزا سے بچنے کی توفیق طلب کرنا۔( ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد نمبر ۱۱ مورخه ۱۵ دسمبر ۱۹۱۱ ء صفحه ۲۸۸) روایت ہے کہ ایک دن حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک شخص گیا اور قحط کی شکایت کی۔آپ نے اسے فرمایا کہ استغفار کرو۔پھر ایک اور شخص گیا۔اُس نے کہا۔یا حضرت! میں محتاج ہوں فرمایا استغفار کرو۔ایک تیسرے نے کہا کہ میرے اولاد نہیں ہوتی۔اُسے بھی استغفار کرنے کا حکم دیا۔چوتھے نے پیداوار زمین کی کمی کا گلہ کیا۔اُسے بھی استغفار کی تاکید فرمائی۔حاضر مجلس ربیع بن صحیح نے عرض کی کہ آپ کے پاس مختلف لوگ آئے اور مختلف چیزوں کے سائل ہوئے مگر آپ نے جواب سب کو ایک ہی دیا۔اس کے جواب میں حسن بصری نے قرآن شریف کی یہی آیات پڑھیں۔جماعت احمدیہ کو بھی استغفار کی تاکید ہر روز بار بار کی جاتی ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۱۶ مورخه ۱۸ /جنوری ۱۹۱۲ ء صفحه ۲۸۹) فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا - يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا - و يُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَلْ لَكُمْ جَنَّتٍ وَيَجْعَلْ لَكُمْ آنهرًا (نوح: ۱۱ تا ۱۳) یعنی استغفار 1 جب کسی قوم کی زمین پر بادل برستا ہے (اور اس سے گھاس اور روئیدگی پیدا ہوتی ہے ) تو ہم اسے چراتے ہیں خواہ وہ قوم اس پر ناراض اور غصہ ہو۔