حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 69 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 69

حقائق الفرقان ۶۹ سُوْرَةُ الزُّمَرِ کام ہے۔اور ایسے بھی ہیں جن کا مہیا کرنا عام عقلمندوں اور داناؤں کا حصہ ہے اور ایسے بھی ہیں جن کو سبب ماننا باعث شرک ہے اور ایسے بھی ہیں جن کو سبب خیال کرنا جہالت اور وہم اور حماقت ہے۔تعجب انگیز بات ہے کہ بہت سے فلاسفر، سائنس دان اور حکماء علل مادیہ اور اسباب عادیہ پر بحث کرتے کرتے ہزار ہا نکات عجیبہ اور دنیوی امور میں راحت بخش نتائج پر پہنچ جاتے ہیں۔مگر روحانی ثمرات پر جنسی ٹھٹھے کر جاتے ہیں۔وجنوب شمال کو قطب اور قطب نما کی تحقیق میں اور اس پر مشرق و مغرب کو چھان مارا ہے اور سورج اور چاند کی کرنوں سے اور روشنیوں سے بے شمار مزے لوٹے ہیں لیکن اگر کسی کو انہی نظاموں سے ہستی باری پر بحث کرتا دیکھ لیں تو اسکے لئے مذہبی جنون اور اس کو مجنون قرار دیتے ہیں۔کیسا بے نظیر نظارہ ہے جس کو ایک اسلام کا حکیم نظم کرتا ہے۔اشقیاء درکار عقبی جبری اند اولیاء درکار دنیا جبری اندے علم ہندسہ جس کی بناء پر آج انجینئر نگ اور اسٹرانومی معراج پر پہنچ گئی ہے۔سوچ لو کیسے فرضی امور سطح مستوی اور نقطہ سے جس کو سیاہی سے بناتے ہیں اور قلم کے خط سے شروع ہوتا ہے۔خط استوا ، جدی ،سرطان، افق نصف النہار وغیرہ سب فرضی باتیں ہیں۔مگر اس فرض سے کیسے حقائقِ مادیہ تک پہنچ گئے ہیں۔لیکن اگر ان بدنصیبوں کو کہیں کہ مومن بالغیب ہوکر دعاؤں اور نبیوں کی راہوں پر چل کر دیکھ تو کیا ملتا ہے! تو ہنس کر کہتے ہیں۔کیا آپ ہمیں وحشی بنانا چاہتے ہیں؟ میں نے بارہا ان (مادیوں ) کو کہا ہے۔تندرست آنکھ بدوں اس خارجی روشنی اور تندرست کان بدوں خارجی ہوا کے اور ہمارا نطفہ بدوں ہم سے خارج رحم کے بہت دور کی اشیاء بدوں ٹلس کوپ کے بار یک در بار یک اشیاء بدوں مائیکروسکوپ کے۔دور دراز ملکوں کے دوستوں کی آواز میں بدوں فونوگراف کے اور ان کی شکلیں بدوں فوٹو گرافی کے نہیں دکھائی دیتیں۔اب جبکہ تم ان وسائط کے قائل ہو اور اضطراراً قائل ہونا پڑتا ہے تو روحانی امور میں کیوں وسائط کے منکر ہو؟ خدا تعالیٰ کی ہستی کو مان کر بھی تم ملک اور شیاطین کے وجود پر کیوں ہنسی کرتے ہو؟ افسوس ے آخرت بدبختوں کے لئے ناخوش گوار ہوگی اور دنیا اولیاء کے لئے ناخوش گوار ہے۔