حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 27
حقائق الفرقان ۲۷ سُوْرَةُ يُسَ تفسیر۔تُكَلِّمُنَا أَيْدِيهِمْ - طب پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض بیماریاں صرف ہاتھ دیکھنے سے معلوم ہو جاتی ہیں۔بعض بیماریاں پیچھے مڑ کر چلانے سے پتہ لگ سکتا ہے۔یہ تو دنیا کا حال ہے۔آخرت میں تو سب کچھ ظاہر ہو جائے گا۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۰ نمبر ۱، ۲ مورخه ۳ و ۱۰ نومبر ۱۹۱۰ ء صفحه ۲۱۲) دو ورد و ٢٩ - وَمَنْ تُعَمرُهُ نُنَكِسُهُ فِي الْخَلْقِ أَفَلَا يَعْقِلُونَ - ترجمہ۔اور جس کو ہم زیادہ عمر دیتے ہیں تو اس کو اوندھا کر دیتے ہیں خلقت میں تو پھر کیا وہ سمجھتے ہی نہیں۔مَنْ نُعمره - خواہ بحیثیت قومی یا بحیثیت سلطنت یا بحیثیت عظمت تفسیر و تنكسه في الخَلْق۔یہ قانون تمام اشیاء عالم میں ہے۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۰ نمبر ۱ ، ۲ مورخه ۳ و ۱۰ نومبر ۱۹۱۰ء صفحه ۲۱۲) انسان بہت بڑے بڑے ارادے کرتا ہے۔بچپنے سے نکل کر جب جوانی کے دن آتے ہیں اور جوں جوں اس کے اعضاء نشو و نما پا کر پھیلتے ہیں اور قومی مضبوط ہوتے ہیں۔اس کے ارادے بھی وسیع ہوتے جاتے ہیں۔ایک بچہ رونے اور ضد کرنے کے وقت ماں کی گود میں چلے جانے یا دودھ پی لینے سے یا تھوڑی سی شیرینی یا کسی تماشے کھیل سے خوش ہو سکتا ہے اور اس کے بہلانے کے واسطے بہت تھوڑی سی تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہے یا یوں کہو کہ ایک بچے کی خوشی اور خواہشات کا منزل مقصود بہت محدود ہوتا ہے۔مگر جوں جوں وہ ترقی کرتا اور اس کے قومی مضبوط ہوتے جاتے ہیں توں توں اس کے ارادوں اور خواہشات کا میدان بھی وسیع ہوتا چلا جاتا ہے۔حتی کہ قرآن شریف کی اس آیت او لم تعَتِرَكُمْ مَا يَتَذَكَّرُ فِيْهِ مَنْ تَذكَرَ وَجَاءَكُمُ النَّذِيرُ (فاطر: ۳۸) کا مصداق بن جاتا ہے۔اس دور کا پہلا درجہ ۱۸ سال کی عمر ہوتی ہے۔اسوقت انسان میں عجیب عجیب قسم کی امنگیں پیدا ہوتی ہیں۔ایسے وقت میں جبکہ انسان کے قوی بھی مضبوطی اور استویٰ کی حد تک پہنچ جاتے ہیں اور اس کے ارادے بھی بہت وسیع ہو جاتے ہیں۔رسول اکرم نے ہر نمازی کو جن میں یہ لڑ کا بھی داخل ہے طول امل اور ہموم وعموم سے پناہ مانگنے کے واسطے حکم دیا ہے۔کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی تھی جس میں تم سونچ لیتے جس کو وچنا ہوتا اور تمہارے پاس آ چکا تھا ڈرانے والا۔