حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 315 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 315

حقائق الفرقان ۳۱۵ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ دیکھو! ایک درخت کی ٹہنی جب تک درخت کے ساتھ پیوند رکھتی ہے۔وہ سرسبز ہوتی ہے۔حالانکہ اس کو جو پانی کی غذائیت ملتی ہے۔وہ بہت ہی کم ہوتی ہے۔اب اگر اس کو دیکھ کر ایک نادان اس کو کاٹ کر پانی کے ایک گڑھے میں ڈال دے کہ لے تو اب جس قدر پانی چاہے جذب کر اور اپنے دل میں خوش ہو کہ یہ بہت جلد بار آور ہو جائے گی۔تو اس کی حماقت اور نادانی میں کیا شک رہ جائے گا جب وہ ڈالی بہت جلد خشک ہو کر سڑ گل جائے گی اور اس کو بتادے گی کہ میں سرسبز نہیں رہ سکتی۔اس درخت سے الگ ہو کر۔اسی طرح یہ نظارہ قدرت عام اور وسیع ہے۔اس سے صاف سبق ملتا ہے کہ ایک مزکی کی ضرورت ہے جس کے ساتھ پیوند لگا کر انسان اپنے تزکیہ کا حصہ لے سکتا ہے۔ورنہ مزکی سے الگ رہ کر کوئی یہ دعوی کرے کہ وہ اپنی اصلاح اور تزکیہ کر لے گا۔یہ غلط اور محض غلط ہے بلکہ ع اور وہی مشکلے دارم کا سچا مسئلہ۔ایں خیال است و محال است و جنوں لو اندرونی اختلاف اور تفرقہ اگر کچھ ایسا نہ تھا کہ اس کے دل پر اثر انداز ہوسکتا۔اور اس کو صرف جزئی اختلاف قرار دیتا تھا تو پھر ضرور تھا کہ غیر قوموں کے اعتراضوں ہی کو دیکھتا جو اسلام پر کئے جاتے ہیں اور دیکھتا کہ وہ کون سا ذریعہ ہے جو اسلام کے نابود کرنے اور اس پر اعتراض کر کے اس کو مشکوک بنانے میں غیر قوموں نے چھوڑ رکھا ہے؟ ذرا عیسائیوں ہی کو دیکھو کہ کس کس رنگ میں اسلام پر حملہ ہے۔شفاخانوں کے ذریعہ اخباروں اور رسالوں کے ذریعہ ہفتہ وار۔روزانہ اور ماہواری ٹریکٹوں اور اشتہاروں کے ساتھ، فقیروں اور جوگیوں کے لباس میں۔مدرسوں اور کالجوں کے رنگ میں، تاریخ اور فلسفہ کی شکل میں۔غرض کوئی پہلو نہیں جس سے اسلام پر حملہ نہ کیا جاتا ہو۔اللہ تعالیٰ کی ذات پر وہ حملہ کہ بپتسمہ دیتے وقت کہا جاتا ہے۔واحد لاشریک باپ ، واحد لاشریک بیٹا واحد لاشریک روح القدس تین واحد لاشریک نہ کہو۔بلکہ ایک واحد لا شریک۔محض خیال ہے۔ناممکن ہے اور دیوانگی ہے۔