حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 275
حقائق الفرقان ۲۷۵ سُوْرَةُ الْحَشْرِ ۲۰۔وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللهَ فَانهُمْ أَنْفُسَهُمْ أُولَبِكَ هُمُ الْفُسِقُونَ - ترجمہ۔اور ان کے جیسے نہ بنو جنہوں نے اللہ کو چھوڑ دیا تو اللہ نے بھی ان کو ان کی جانوں سے بھلا دیا ( انہیں اپنی خیریت کی فکر نہ رہی اور دنیا میں مستغرق ہو گئے ) تو یہی لوگ بدچلن بد رویہ ہیں۔تفسیر۔ایسے لوگوں کی طرح مت ہو جاؤ جن کی نسبت فرمایا کہ نَسُوا اللَّهَ فَانْسُهُمْ أَنْفُسَهُمْ أولَبِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ۔یعنی جنہوں نے اس رحمت اور پاکی کے سرچشمہ قدوس خدا کو چھوڑ دیا اور اپنی شرارتوں ، چالا کیوں ، ناعاقبت اندیشیوں غرض قسم قسم کی حیلہ سازیوں اور رو باہ بازیوں سے کامیاب ہونا چاہتے ہیں۔مشکلات انسان پر آتی ہیں۔بہت سی ضرورتیں انسان کو لاحق ہیں۔کھانے پینے کا محتاج ہوتا ہے۔دوست بھی ہوتے ہیں۔دشمن بھی ہوتے ہیں۔مگر ان تمام حالتوں میں متقی کی یہ شان ہوتی ہے کہ وہ خیال اور لحاظ رکھتا ہے کہ خدا سے بگاڑ نہ ہو۔دوست پر بھروسہ ہو۔ممکن ہے کہ وہ دوست مصیبت سے پیشتر دنیا سے اٹھ جاوے یا اور مشکلات میں پھنس کر اس قابل نہ رہے۔حاکم پر بھروسہ ہوتو ممکن ہے کہ حاکم کی تبدیلی ہو جاوے اور وہ فائدہ اس سے نہ پہنچ سکے اور اُن احباب اور رشتہ داروں کو جن سے امید اور کامل بھروسہ ہو کہ وہ رنج اور تکلیف میں امداد دیں گے۔اللہ تعالیٰ اس ضرورت کے وقت ان کو اس قدر دور ڈال دے کہ وہ کام نہ آسکیں۔پس ہر آن خدا سے تعلق نہ چھوڑنا چاہیے۔جو زندگی ، موت، کسی حالت میں ہم سے جدا نہیں ہوسکتا۔پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے خدا سے قطع تعلق کر لیا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ تم دکھوں سے محفوظ نہ رہ سکو گے۔اور سکھ نہ پاؤ گے۔بلکہ ہر طرف سے ذلت کی مار ہوگی۔اور ممکن ہے کہ وہ ذلت تم کو دوستوں ہی کی طرف سے آ جاوے۔ایسے لوگ جو خدا سے قطع تعلق کرتے ہیں وہ کون ہوتے ہیں؟ وہ فاسق ، فاجر ہوتے ہیں۔اُن میں سچا اخلاص اور ایمان نہیں ہوتا یہی نہیں کہ وہ ایمان کے کچے ہیں۔نہیں ان میں شفقت علی خلق اللہ بھی نہیں ہوتی۔الحکم جلد ۳ نمبر ۵ مورخه ۱۰ / فروری ۱۸۹۹ صفحه ۸-۹)