حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 205 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 205

حقائق الفرقان ۲۰۵ سُوْرَةُ قَ ١٦ - اَفَعَيِينَا بِالْخَلْقِ الْأَوَّلِ بَلْ هُمْ فِي لَبْسٍ مِنْ خَلْقِ جَدِيدٍ - ترجمہ۔تو کیا ہم تھک گئے پہلی ہی بار پیدا کرنے سے۔کچھ بھی نہیں بلکہ وہ لوگ شبہ میں پڑے ہوئے ہیں جدید پیدائش (یعنی مرکر جی اٹھنے سے )۔تفسیر۔کیا ہم پہلی پیدائش سے تھک گئے ہیں۔نہیں یہ لوگ نئی پیدائش سے شبہ میں ہیں۔تصدیق براہین احمدیہ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۷۹ حاشیہ) ١٩ مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ - ترجمہ۔یہاں تک کہ کوئی بات بھی آدمی منہ سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان تیار رہتا ہے ( لکھ لینے کو )۔تفسیر۔مومن کو چاہیے کہ ہر ایک چیز سے کوئی نہ کوئی نصیحت حاصل کرے۔گر میموفون کو محض تفریح کا ذریعہ سمجھا گیا ہے۔انسان غور کرے تو اس کیلئے عبرت کا موجب ہے۔جس طرح ایک شخص کی آواز اس میں بند ہوتی ہے اور پھر اس کے تمام انداز محفوظ ہو جاتے اور عام مجالس میں ظاہر ہوتے ہیں۔اسی طرح اگر انسان یہ یقین رکھے کہ جو کچھ وہ بولے گا۔اس کا ریکارڈ بھر نے والے مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ - کے ماتحت پاس ہی موجود ہوتے ہیں اور اس کے اعمال واقوال کا اثر ذرات عالم پر پڑ کر محفوظ رہتا ہے۔اور پھر یہ سب کچھ ظاہر ہو گا۔تو وہ کبھی ایسا جملہ نہ بولے، نہ کام کرے جو خلاف شریعت ہو۔کیا کوئی شخص جسے یقین ہو کہ میری آواز فونوگراف میں بھری جارہی ہے۔کوئی ایسا فقرہ بولتا ہے جس سے اس کا ناپاک اور خبیث ہونا ہرگز ظاہر نہیں۔تو پھر باوجود یکہ کلام الہی میں نص صریح ہے کہ مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رقِيبٌ عَتِيدٌ۔وہ کیوں گندی باتیں کرے۔ایک دن آتا ہے کہ یہ سب کچھ ظاہر کیا جاوے گا اس وقت جو ندامت و فضیحت ہوگی۔وہ ایک شریف انسان کیلئے عذاب سے بڑھ کر ہے۔یادرکھو کہ جو کچھ ہم منہ سے بولتے ہیں اسے محفوظ کرنے والے خدا کے فرستادہ موجود ہوتے ہیں اور ہماری باتوں اور کاموں کا اثر ذرات عالم اور اعضاء انسانی پر پڑتا ہے۔قیامت کے دن گریموفون کی طرح یہ سب کچھ