حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 548 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 548

حقائق الفرقان ۵۴۸ سُوْرَةُ الْبَقَرَة سے کہ نکاح کر لیں وہ اپنے شوہروں سے جب وہ آپس میں راضی ہو جا ئیں دستور کے موافق یہ اُس کو نصیحت کی جاتی ہے جو تم میں سے اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو یہ تمہارے لئے بڑی لیز گی اور بڑی صفائی کی بات ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاء - چونکہ جنگ میں بہت ہی قریب کے رشتہ دار مرد اور عورتیں موجود تھے اور طرف مخالف میں ان مسلمان عورتوں کے رشتہ دار بھی تھے اس لئے بعض وقت یہ عورتیں نشوز بھی کر لیتی تھیں کیونکہ رشتہ داری کا معاملہ تھا اس لئے اور پھر زناشوئی کے تعلقات پر اس کا اثر پڑتا تھا اس لئے مجبوراً طلاق دینا پڑتا تھا۔اس لئے جہاد کے بیان میں طلاق کے مسائل بیان ہو رہے ہیں۔فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ۔یہ آیت ایک واقعہ کے بیان سے صاف ہو جائے گی وہ یہ ہے کہ ایک شخص کی حقیقی بہن نے کسی کے ساتھ نکاح کیا۔میاں بی بی میں ناموافقت ہوئی تو میاں نے طلاق دے دی مگر عدت گزرنے سے پہلے اس نے پھر رجوع کر لیا۔اسی طرح کئی بار ہوا کہ جب وہ وقت گزرنے کو آتا تو پھر وہ باہمی تعلقات کو جائز کر لیتا۔آخر جب ایک دفعہ اس نے رجوع کرنا چاہا تو چونکہ قانونِ الہبی کے مطابق پانچ جگہوں کی رضامندی حاصل کرنا پڑی تھی۔اول قرآن۔اس سے یہ دیکھا جاتا کہ تعلق جائز ہے یا نہیں۔دوم۔رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل درآمد۔سوم۔عورت کی رضا مندی۔چہارم۔مرد کی رضامندی۔پنجم۔عورت کے کنبہ کی۔یعنی جو عورت کا ولی ہے اس کی رضامندی۔اس آخری شرط کے مطابق میاں نے اپنی بی بی سے مصالحت کے بعد پیغام بھیجا کہ چونکہ آپ کی رضامندی ضروری ہے اس لئے آپ بیٹھیں تا یہ معاملہ طے ہو جائے۔اس پر اس نے بہنوئی کو سخت ست کہلا بھیجا اور کہا کہ میں ہرگز اپنی بہن کو اب تجھ سے نکاح نہ کرنے دوں گا۔اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ جب میاں بیوی راضی ہیں تو تمہیں روکنا نہیں چاہیے۔مذکورہ بالا بیان سے یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ مخفی د مخفی نکاح یا عربی زبان میں عورتوں سے نکاح کر لینا شریعت نے جائز نہیں رکھا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۷ مؤرخه ۱/۲۹ پریل ۱۹۰۹ صفحه ۴۰)