حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 420
حقائق الفرقان ۴۲۰ سُوْرَةُ الْبَقَرَة وَ لَو يَرَى الَّذِينَ ظَلَمُوا۔جو ایسا نہیں کرتے وہ مشرک ہیں۔جب کوئی عذاب آ جاتا ہے تو پھر جس صاحب قوت یا صاحب جمال یا صاحب مال سے خدا کے برابر محبت کرتے تھے وہ کسی کام نہیں آتا۔اس وقت پتہ لگتا ہے۔اَنَّ الْقُوَّةَ لِلهِ جَمِيعًا۔کہ بل بو تہ سب اللہ ہی کے لئے ہے۔کوئی قوت خدا کے مقابل کام نہیں دے سکتی۔حسن و جمال، علم و فضل کی قوت تو تلواروں کے ماتحت ہے الہی قوت کسی کے ماتحت نہیں۔( ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۳ مؤرخہ یکم اپریل ۱۹۰۹ صفحه ۲۷) بعض آدمی بعض اشیاء کو مختلف اغراض کے باعث پرانوں سے پیارا سمجھتے ہیں۔تم نے سنا ہوگا کہ ہزاروں اپنے پرانوں کو خدا کے سوا اور اشیاء کی محبت پر تیاگ دیتے ہیں۔پس سچی تعلیم اور کامل تعلیم میں بجائے اس کے کہ باری تعالیٰ کو پرانوں سے پیارا کہا جاوے اُس کو ہر ایک چیز سے زیادہ پیارا ہونے کا یقین کرایا جاوے اور یہی فائدہ ہے جو قرآن کریم کے لفظ مِنْ دُونِ اللہ سے حاصل ہوتا ہے اور یہی قرآن کریم کی تکمیل ہے۔تصدیق براہین احمدیہ۔کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۱۴۱، ۱۴۲) قرآن شریف نے ایک اور شرک کی طرف بھی توجہ دلائی ہے وہ یہ ہے کہ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْدَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُتِ اللهِ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ یعنی جیسا پیار اللہ سے کرتے ہو یہ کسی اور سے کرنا خدا کا شریک بنانا ہے۔وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ اندادا۔نہ بنانا یوں ہے کہ مثلاً ایک طرف آواز آ رہی ہے حتی علی الفلاح اور دوسری طرف کوئی اپنا مشغلہ جس کو نہ چھوڑا تو یہ بھی شرک ہے۔(البدر جلد ۹ نمبر ۱۲ مورخه ۱۳ رجنوری ۱۹۱۰ صفحه ۲) 1 - إِذْ تَبَرَّاَ الَّذِينَ اتَّبِعُوا مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا وَرَاوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْأَسْبَابُ - ترجمہ۔جب الگ ہو جاویں گے وہ گرو جن کی پیروی کی گئی اُن چیلوں سے جنہوں نے پیروی کی تھی اور دیکھ لیں گے عذاب اور ٹوٹ جاویں گے ان کے آپس کے سب علاقے۔تفسیر۔تَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْأَسْبَابُ - اسباب کے معنے تعلقات کے ہیں یعنی ان کے باہمی