حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 364 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 364

حقائق الفرقان ۳۶۴ سُورَة البَقَرَة شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِنْ بَعْدِي قَالُوا نَعْبُدُ الهَكَ وَالهَ أَبَابِكَ ابْرُهم وَ اسْعِيلَ وَإِسْحَقَ الَهَا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ۔(البقرة : ۱۳ تا ۱۳۴) دنیا کی بڑی بڑی قومیں اہل اسلام تمام عیسائی، تمام یہودی، سارا یورپ سارا امریکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بڑی تعظیم سے یاد کرتے ہیں اور سب ابراہیم علیہ السلام کے عظیم الشان انسان ہونے کے معتقد ہیں۔ابراہیم علیہ السلام میں اس قدر خوبیاں اور برکتیں تھیں کہ ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اے ابراہیم ! اگر تمام آسمان کے ستارے اور زمین کے ذرات گن سکتا ہے تو گنے۔اسی قدر تیری اولاد ہوگی۔مکہ معظمہ میں جہاں جہاں حضرت ابراہیم کھڑے ہوئے، جہاں جہاں چلے پھرے اور جہاں جہاں دوڑے ہیں یہ سب حرکات اللہ تعالیٰ نے عبادات میں داخل کر دیں۔اخیر عمر میں ایک شہزادی بھی آپ کے نکاح میں آئی۔ننانوے سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ نے ایک صالح اور نیک لڑکا عطا فرمایا۔مال مویشی کثرت سے تھے اور بیبیاں اور بچے بھی تھے۔دنیوی دلجمعی کے اسباب بھی سارے مہیا تھے۔جب مہمان آیا تو معاً عجل حنیذ بھنا ہوا گوشت مہمان کے سامنے لا حاضر کیا۔اگر اسباب مہیا نہ ہوتا تو معایہ تیاری ناممکن تھی۔وہ گر جس کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کو یہ دین ودنیا کی برکتیں عطاء کی تھیں وہ کیا تھا ؟ جو سارے پیغمبر موسی داؤد عیسی ساروں کو ابرہیم کی ہی برکت سے حصہ ملا تھا اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ و عَلَى الِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ اور كَمَا بَارَكْتَ عَلی ابراھیم میں بھی اسی مماثلت کی دعا سکھلائی ہے۔جڑان برکتوں کی اور گران تمام نعمتوں کا کیا تھا؟ بس یہی ایک گر تھا اِذْ قَالَ لَهُ رَبُّةَ أَسْلِمُ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ العلمین جب کہا اس کو اس کے رب نے کہ تو فرماں بردار ہوجا۔عرض کیا کہ میں فرمانبردار ہو چکا۔تو تو رب العالمین ہے۔تیری فرمانبرداری سے کون اعراض کرے سوائے اس کے جو کہ بے وقوف ہو۔اللہ اللہ ! رب العالمین اور اس کی سچی فرمانبرداری ! اس سے بڑھ کر اور کیا چاہئے؟ یه گردینی و دنیوی برکتوں کا نہ صرف اپنے ہی لئے ابراہیم علیہ السلام نے تجویز کیا بلکہ اپنے بیٹوں