حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 342
حقائق الفرقان ۳۴۲ سُوْرَةُ الْبَقَرَة حَوْلِهِمْ (العنكبوت: (١٨) وَأَمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ ( القريش: (۵) کا نظارہ پیش نظر ہے۔چونکہ حضرت ابراہیم علیه السلام لا يَنَالُ عَهْدِى الظَّلِمِينَ (البقرة : ۱۲۵) سے سمجھ گئے تھے کہ یہاں کچھ شریر بھی ہوں گے اس لئے عرض کیا کہ وَارْزُقُ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ أَمَنَ مِنْهُمْ بِاللهِ یعنی مومنوں کو رزق طیب دے۔اللہ نے فرمایا۔نہیں۔ہم رحمن ہیں اس لئے ہم کا فر کو بھی روٹی دیں گے مگر دنیا میں۔مومن کی طرح آخرت میں بھی نہیں۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۱ مؤرخه ۱۸ / مارچ ۱۹۰۹ ء صفحه ۲۱) وَارْزُقُ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُمْ - یہ قید حضرت ابراہیم نے پچھلے خوف سے لگائی کہ وہاں وَ مِنْ ذُرِّيَّی کے جواب میں لا يَنَالُ عَهْدِى الظلمين (البقرة: ۱۲۵) فرمایا تھا مگر یہ قیاس غلط نکلا۔فرمایا وَ مَنْ كَفَرَ فَأُمَتَّعُهُ قَلِیلا کا فر کو بھی رزق دوں گا۔تشحیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۴۰،۴۳۹) لے اور ہر قسم کے خوف سے امن میں رکھا۔۲، ۳، ظالموں کو ہمارا اقرار نہیں پہنچتا۔(ناشر)