حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 327 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 327

حقائق الفرقان ۳۲۷ سُوْرَةُ الْبَقَرَة کے لئے اجر ہے اس کے پروردگار کے پاس اور ایسے لوگوں پر نہ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈیشن۔صفحہ ۲۸) اللہ تعالیٰ کے فرمان بردار بنیں اور اس کے حکم کے مقابل کسی اور کے حکم کی پرواہ نہ کریں۔فرمانبرداری کا اثر اور امتحان مقابلہ کے وقت ہوتا ہے۔ایک طرف قوم اور رسم و رواج بلاتا ہے دوسری طرف خدا تعالیٰ کا حکم ہے۔اگر قوم اور رسم و رواج کی پرواہ کرتا ہے تو پھر اُس کا بندہ ہے اور اگر خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری کرتا ہے اور کسی بات کی پرواہ نہیں کرتا ہے تو پھر خدا تعالیٰ پر سچا ایمان رکھتا ہے اور اس کا فرمانبردار ہے اور یہی عبودیت ہے۔قرآن مجید نے اسلام کی یہی تعریف کی ہے۔مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَ هُوَ مُحْسِنُ۔سچی فرمانبرداری یہی ہے کہ انسان کا اپنا کچھ نہ رہے۔اس کی آرزوئیں اور امیدیں، اس کے خیالات اور افعال سب کے سب اللہ تعالیٰ ہی کی رضا اور فرمانبرداری کے نیچے ہوں۔میرا اپنا تو یہ ایمان ہے کہ اس کا کھانا پینا، چلنا پھرنا سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہو تو مسلمان اور بندہ بنتا ہے۔خدا تعالیٰ کی فرمان برداری اور رضامندی کی راہوں کو بتانے والے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔چونکہ ہر شخص کو مکالمہ الہیہ کے ذریعہ الہی رضا مندیوں کی خبر نہیں ہوتی ہے۔اگر کسی کو ہو بھی تو اُس کی وہ حفاظت اور شان نہیں ہوتی جو خدا تعالیٰ کے ماموروں اور مرسلوں کی وحی کی ہوتی ہے اور خصوصا سرور انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی کہ جس کے دائیں بائیں، آگے پیچھے ہزاروں ہزار ملائکہ حفاظت کے لئے ہوتے ہیں اس لئے کامل نمونہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں اور وہی مقتدا اور مطاع ہیں۔پس ہر ایک نیکی تب ہی ہو سکتی ہے کہ جب وہ اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہو اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے نیچے ہو۔( البدر جلدے نمبر ۹ مؤرخہ ۵ / مارچ ۱۹۰۸ صفحه ۶،۵) خدا تعالیٰ سے غافل اور بے پرواہ نہ ہو یہ منشائے اسلام ہے۔پس یا درکھو کہ عقائد کے لحاظ سے دنیا میں بینظیر چیز اسلام ہے۔میں راستی سے کہتا ہوں کہ ایمان کے لحاظ سے، اعمال کے لحاظ سے دنیا میں کوئی مذہب اسلام سے مقابلہ نہیں کر سکتا مگر میں یہ بھی ساتھ ہی کہوں گا کہ اسلام ہو۔