حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 233 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 233

حقائق الفرقان ۲۳۳ سُوْرَةُ الْبَقَرَة بیان کئے گئے ہیں تا کہ تم دیکھوں سے بچو۔تفسیر۔میقاق۔پکا وعدہ۔رفعنا۔اونچارکھا ہم نے تم پر طور کو۔۔بنی اسرائیل سے کچھ لوگ حضرت موسیٰ" کے ساتھ اس شوق میں گئے کہ ہم بھی مکالمات الہیہ سنیں۔حضرت موسیٰ نے انہیں ہدایت کی کہ میں پہاڑ پر جاتا ہوں تم یہاں پہاڑ کے نیچے انتظار کرو۔جب جناب الہی سے ارشاد ہوگا تمہیں اس دعا کے مقام پر بلالوں گا۔چونکہ انہیں پہاڑ کے نیچے رہنے کی سخت تاکید کی۔اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے تم پر پہاڑ کو اونچارکھا۔( پھر اس میں زلزلہ آیا۔جس سے وہ سمجھے کہ وہ ہم پر گر پڑنے والا ہے)۔ہمارے ملک میں بھی ایسے محاورات بولے جاتے ہیں جیسے راوی پر لاہور آباد ہے یا راوی لاہور کے نیچے بہتی ہے اور قرآن کریم میں ہے۔دَخَلُوا عَلَى يُؤْسَفَ۔اس سے یہ مراد تو نہیں کہ سب بھائی آکر یوسف کے اوپر چڑھ بیٹھے۔ایک حدیث سے بھی یہ محاورہ صاف ہو جاتا ہے وہ ہجرت کی حدیث ہے جس میں حضرت ابوبکر فرماتے ہیں۔فَرَفَعَ لَنَا الْجَبَل۔وَاذْكُرُوا مَا فِیهِ۔جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کرو۔تَتَّقُونَ۔تاکہ تم دکھوں سے بچ جاؤ۔مخاطب بنی اسرائیل ہیں مگر ہمیں سمجھاتا ہے کہ غار حرا میں رسول کریم بھی اوپر گئے تھے اللہ نے انہیں وہاں کتاب دی۔تم اس پر عمل کرو تا کہ دکھوں سے بچ جاؤ۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۷ مورخه ۲۵ فروری ۱۹۰۹ء صفحه ۱۳،۱۲) اور جب لیا ہم نے مضبوط وعدہ تمہارا اور اوپر رکھا ہم نے تم پر طور کو۔لوجود یا ہم نے تمہیں قوت سے اور عمل کرو جو اس میں ہے تو کہ تم متقی بن جاؤ۔دوسرے مقام پر رفعنا کے بدلہ آیا ہے نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَأَنَّهُ ظُلَّةً وَظَنُّوا أَنَّهُ واقع بهم (الاعراف: ۱۷۲) مجاہد جو قرآن کے معانی بیان کرنے میں عظیم الشان تابعی ہے ا ہم نے بلند کیا پہاڑ کوان پر گو یا وہ چھتری ہے اور انہوں نے یقین کیا کہ وہ اب ان پر گرا۔( ناشر )