حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 125
حقائق الفرقان ۱۲۵ سُوْرَةُ الْبَقَرَة بہت کچھ لوازم اور آثار اگر چہ محسوس بحواس ظاہرہ ہیں لیکن چونکہ نفس ایمان امور مخفیہ سے ہے اور حواس باطنہ سے تعلق رکھتا ہے لہذا ایمان کے بیان میں لا يَعْلَمُونَ فرمایا ہے جو کہ باطنی علوم پر بولا جاتا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ جس طرح یہاں پر گیا امَنَ النَّاسُ فرمایا ہے اس طرح کے فساد کے متعلق گیا کو ذکر نہیں فرمایا اس لئے کہ ایمان میں تو ان کو کہا گیا ہے کہ فلاں کی مانند ایمان لاؤ اور اس کی مثل ہو سکتی تھی لہذا یہاں پر گہا لایا گیا اور فساد میں ان کے واقعی فساد کا بیان ہے اور چونکہ منافقوں کا فساد بے مثل تھا اور اس کے بے مثل ہونے کا بیان کرنا مقصود تھا لہذا فساد کے بیان میں گما کو ذکر نہیں کیا۔(رسالہ تعلیم الاسلام قادیان جلد نمبر ۸۔فروری ۱۹۰۷ صفحه ۳۰۴،۳۰۳) جب ان سے کہا جائے کہ ایمان لاؤ جیسے کہ عام لوگ ایمان لائے تو کہتے ہیں کیا ہم ایمان لائیں جیسے یہ کم عقل لوگ ایمان لا رہے ہیں۔سنو ! یہی بے عقل ہیں ولیکن یہ علم انہیں کہاں کہ اپنی بے عقلی کو سمجھیں۔جب وہ ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اور جب اپنے سرداروں کے پاس تنہا ہوتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں ہم تو انہیں خفیف بنانے والے ہیں۔ھڑوا کے معنے ہیں کسی کو خفیف بنانا اور یہ ٹھٹھے کا لازمہ ہے۔اللہ انہیں ذلیل کرے گا اور ان کو ڈھیل دیتا ہے وہ الہی حد بندیوں سے گزر کر اندھے ہو رہے ہیں يَسْتَھری بھم کا لمبا جواب دینے کی ضرورت نہیں۔چونکہ اس ملک کے لوگ عربی سے نابلد ہیں اس لئے انہیں یہ سمجھانا کہ مشاکلت کے لئے ہے فضول ہے سیدھا جواب یہی ہے جو ہم نے معنوں میں ظاہر کیا۔یہی لوگ ہیں کہ جنہوں نے ضلالت کو ہدایت کے بدلے خرید لیا۔تو ان کی تجارت نے نفع نہ دیا اور وہ ہدایت یاب نہ ہوئے۔اشْتَرَوُا الضَّللَةَ بِالْهُدی پر اعتراض ہے کہ جب ان کے پاس ہدایت نہیں تو یہ خریدو فروخت کیسی؟ اس کا جواب ایک تو یہ ہے کہ ان کو ہدایت لینی چاہیے تھی پر انہوں نے نہ لی۔دوم یہ کہ انسان کی فطرت میں ہدایت کا مادہ ہے مگر انہوں نے اس کے بدلے گمراہی کو لیا۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۶ مورخه ۱۱ فروری ۱۹۰۹ء صفحه ۵)