حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 369
:چونکہ جنگ میں بہت ہی قریب کے رشتہ دار مرد اور عورتیں موجود تھے اور طرفِ مخالف میں ان مسلمان عورتوں کے رشتہ دار بھی تھے اِس لئے بعض وقت یہ عورتیں نشوز بھی کر لیتی تھیں کیونکہ رشتہ داری کا معاملہ تھا اور پھر زَناشوئی کے تعلّقات پر اس کا اثر پڑتا تھا اِس لئے مجبورًا طلاق دینا پرتا تھا۔اِس لئے جہاد کے بیان میں طلاق کے مسائل بیان ہو رہے ہیں۔:یہ آیت ایک واقعہ کے بیان سے صاف ہو جائے گی وہ یہ کہ ایک شخص کی حقیقی بہن نے کسی کے ساتھ نکاح کیا۔میاں بی بی میں ناموافقت ہوئی تو میاں نے طلاق دے دی مگر عدّت گزرنے سے پہلے اس نے پھر رجوع کر لیا۔اِسی طرح کئی بار ہؤا کہ جب وہ وقت گزرنے کو آتا تو پھر وہ باہمی تعلقات کو جائز کر لیتا۔آخر جب ایک دفعہ اس نے رجوع کرنا چاہا تو چونکہ قانونِ الہٰی کے مطابق پانچ جگہوں کی رضامندی حاصل کرنا پڑی تھی۔اوّل قُرآن سے یہ دیکھا جاتا کہ تعلق جائز ہے یا نہیں۔دومؔ۔رسول صلّی اﷲ علیہ وسلّم کا عمل درآمد۔سومؔ عورت کی رضامندی۔چہارمؔ مُرد کی رضامندی۔پنجم ؔ۔عورت کے کنبہ کی۔یعنی جو عورت کا ولی ہے اس کی رضامندی۔اِس آخری شرط کے مطابق میاں نے اپنی بی بی سے مصالحت کے بعد پیغام بھیجا کہ چونکہ آپ کی رضامندی ضروری ہے اِس لئے آپ بیٹھیں تا یہ معاملہ طے ہو جائے۔اِس پر اس نے بہنوئی کو سخت سُست کہلا بھیجا اور کہلا بھیجا اور کہا کہ مَیں ہرگز اپنی بہن کو اَب تجھ سے نکاح نہ کرنے دوں گا۔اِس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ جب میاں بیوی راضی ہیں تو تمہیں روکنا نہیں چاہیئے۔ُ مذکورہ بالابیان سے یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ مخفی در مخفی نکاح یا عربی زبان میں عورتوں سے نکاح کر لینا شریعت نے جائز نہیں رکھا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۹؍اپریل ۱۹۰۹ء) :تو اَب نہ روکو اُن کو کہ نکاح کر لیں اپنے خاوندوں سے۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ ۵۰) :اپنے پہلے خاوندوں سے۔:عدّت پوری ہونے کے قریب ہو جائے۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ ۴۴۳)