حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 228
السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ :دعائیں سُنتا ہوں۔دِلوں کے بھیدوں، ضرورتوں، اخلاص کو جانتا ہے۔مَنَا سِکَنَا :طریقِ عبادت۔تُبْ :رجوع برحمت کر۔یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ:تم قرآن سنتے ہو۔یہ بھی ابراہیمؑ کی دُعا کا اثر ہے۔حِکْمَۃَکے معنی ہیں پکّی بات۔عربوں نے اس کے معنے لئے ہیں جو بات انسان کو معزّز بنانے والی اور فصیح باتوں سے ہٹانے والی ہو ( پارہ ۱۰ رکوع ۳ میں اس کی تشریح ہے) اِن آیات میں شیعہ کا رَدّ بھی ہے کہ جو رسول آئے گا وہ تزکیہ نفوس کرے گا۔گُنہ گاروں کو پاک انسان بنا دے گا مگر شیعہ کے عقائد کے مطابق آدم سے لیکر قیامت تک کوئی گناہ ایسا نہیں ہو سکتا جن کا اِرتکاب صحابہؓ نے نہ کیا ہو۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۸؍مارچ ۱۹۰۹ء) رکوع ۱۵ میں حضرت ابراہیمؑ نے یہ دعائیں کیں:۔رَبِّ اجْعَلْ ھٰذَا بَلَدًا اٰمِنًاملا کر ایک پھیرے میں ایک دعا۔اب بھی سات طواف ہیں۔وَ سَیَکْفِیْکَھُمُ اﷲُ(یہ پیشگوئی ہے جو پوری ہوئی)۔(تشحیذالاذہان جلد ۸نمبر۹ صفحہ۴۴۰) حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے اِس مسجد (خانہ کعبہ) کی تعمیر کے وقت سات دعائیں کی ہیں:۔اوّل: دوم: یعنی اے ہمارے ربّ اپنا ہی ہمیں فرمانبردار بنا دے اور ہماری اولاد سے ایک گروہ معلم الخیر تیرا فرمانبردار ہو اور دکھا ہمیں اپنی عبادت گاہیں اور طریقِ عبادت۔سومؔ: (ابراھیم:۳۶)بچا لے مجھے اور میری اولاد کو کہ بُت پرستی کریں۔چہارمؔ:اور رزق دے مکّہ والوں کو پھَلوں سے۔پنجم :ؔؔ(ابراھیم:۳۸) کچھ لوگوں کے دِل اس شہر کی طرف جھُکا دے۔ششم ؔ:وَابْعَثْ فِیْھِمْ رَسُوْلًا ان میں غظیم الشّان رسول بھیج۔ہفتم ؔ: (ابراھیم:۳۶) اِس شہر کو امن والا بنا۔اور قرآن کریم میں ان دعاؤں کے قبول ہونے کا ذکر آیاتِ ذیل میں ہے جو سات ہیں: