حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 200 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 200

اﷲ کی بات سے محروم رہتے ہیں اور کیونکر راستبازوں کے دشمن ہو جاتے ہیں اور کِس طرح ضِدّ اور عداوت بے جا کلمات کے لئے جرأت دلاتی ہے۔اِن تین باتوں کا بیان اِس رکوع میں ہے۔بہت سے لوگ ملائکہ کے مُنکر ہیں۔بعض مسلمانوں نے بھی ان پر ایمان لانے کو اِتنا ضروری نہیں سمجھا حالانکہ تمام نیک تحریکوں کے سر چشمے یہی ہیں۔علمِ عقائد میں ایک کتاب ’کتاب ؔالتّوحید‘میں نے دیکھی ہے جس میں اس نیک بخت نے ملائکہ کا ذکر نہیں کیا۔مَیں ملائکہ کی نسبت کچھ تفصیل سے بیان کرنا چاہتا ہوں کیونکہ ان پر ایمان نے مجھے بہت بڑا فائدہ پہنچایا ہے۔اِس دُنیا میں کوئی مسبّب بغیر ان سبب نہیں۔ایک چیز دوسری چیز سے پیدا ہوتی ہے۔اس زمانہ کے فلاسفر بھی اِس بات کو مانتے ہیں۔پس خیال کرو کہ بعض وقت بیٹھے بیٹھے آدمی کے دل میں نیک کام کیلئے ایک لہر اُٹھتی ہے اور ایک نیکی کے کرنے کے لئے جوش پَیدا ہو جاتا ہے اور اس میں جدید تحریک نظر آتی ہے۔حالانکہ انسان اور اس کا عِلم اور اس کے قوٰی پہلے سے موجود تھے مگر یہ تحریک یکدم پیدا ہوتی ہے جس سے معلوم ہؤا کہ کوئی نہ کوئی وجود اس کا محرّک ہے۔پس ایسی تحریک کرنے والے کا نام حدیث و قرآن کی رُو سے مَلک ہے۔مَلک کو عِلم ہوتا ہے اِس لئے وہ حسبِ موقع و محل ایک کام کی تحریک کرتا ہے جو انسان فورًا اس پر عمل کرتا ہے (ہمارے حضرت اقدس صلّی اﷲ علیہ وسلّم اپنے قلبِ صافی میں جس وقت کسی کام کی تحریک پاتے تو اس وقت خواہ رات کے بارہ بجے ہوں اس کے کرنے میں مشغول ہو جاتے اور مشکلات کی پرواہ نہ کرتے) تو مَلک کو اس شخص کے ساتھ ایک محبّت پیدا ہو جاتی ہے اِس لئے وہ اَور تحریکیں کرتا ہے اور پھر دوسرے ملائکہ کو بھی جو اس کے قریب ہوتے ہیں اطلاع دیتا ہے کہ یہ قلب اِس قابل ہے کہ ہم اسے