انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 85 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 85

تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۸۵ سورة سبا تمہارے لئے پیدا کر دیا ہے۔رَبِّ غَفُورٌ اس ماحول میں پورے کانٹس (conscious) ہوتے ہوئے اور علی وجہ البصیرت تم اپنی کوشش کرو۔لیکن تمہاری کوشش میں نقص رہ جاتے ہیں انسان میں بشری کمزوریاں ہیں۔جو نقص رہ جاتے ہیں ان سے تم گھبرانا نہیں۔یعنی جو انسان اپنے نفس کو پہچانتا ہے جہاں وہ یہ پہچانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اپنے قرب کی بڑی راہیں کھولی ہیں وہاں یہ بھی پہچانتا ہے کہ میرے نفس میں بڑی کمزوریاں ہیں۔میرے ساتھ آفات نفس لگی ہوئی ہیں۔میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر ان سے بچ نہیں سکتا پس فرما یا :- بلدة طيبة وہ سارا ماحول پیدا کردیا جو تمہاری قوتوں اور استعدادوں کی صحیح نشو و نما کرنے والا ہے اب تم کوشش کرو اور آگے بڑھو جب تم کوشش کرو گے اور آگے بڑھنے کے لئے تگ و دو کرو گے اس وقت یہ احساس اپنے دل میں پاؤ گے کہ تمہارے اندر بشری کمزوریاں ہیں۔ان سے نہ گھبرانا رَبُّ غَفُورٌ مغفرت کرنے والا تمہارا رب ہے یہاں رب غفور کہ کر مغفرت اور ربوبیت کو اکٹھا کر دیا گیا ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس طرح تمہاری مغفرت کر دے گا کہ تمہاری ربوبیت اور تمہاری تربیت اپنے کمال کو پہنچ جائے گی۔بلدة طيبة مثلاً یہ ہمارار بوہ ہے یہ ہمارے لئے بلدةٌ طَيِّبَةً ہے ان مکھیوں کے لئے بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ نہیں ہے۔جن کو مارنے کے لئے ہم مہم کرتے ہیں کہ ملیریا نہ پھیلائیں۔ان چوہوں کے لئے یہ بلدة طيبة نہیں ہے۔جن کو مارا جاتا ہے کہ وہ خرابی پیدا نہ کریں میں ایک خاص بات واضح کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ بلدةٌ طَيِّبة کے یہ معنے بیج نہیں کہ ایک شہر ہے جو بڑا اچھا ہے بلکہ بلد طيبة کے یہ معنے ہیں کہ ایک شہر ہے جو انسان کے لئے اس کی نشو ونما کے لئے اور اس کی نشو ونما کے کمال کو پہنچانے کے لیے اچھا ہے۔وہ بھیڑوں کے لئے اچھا نہیں وہ مکھیوں کے لئے اچھا نہیں وہ چوہوں کے لئے اچھا نہیں وہ چوروں کے لئے اچھا نہیں وہ جو غیر تربیت یافتہ نوجوان جلسہ کے دنوں میں سکوٹروں پر بیٹھ کر شاید اس امید پر آ جاتے ہیں کہ شاید ننگے منہ عورتوں پر ہماری نظر پڑ جائے گی ان کے لئے اچھا نہیں۔فوراً چیک کر لیا جاتا ہے اور ان کو آگے بھیج دیا جاتا ہے لیکن ہمارے لیے یہ بلدة طيبة یعنی بڑا اچھا شہر ہے۔پاک ماحول ہے جس میں انسان جسمانی اور روحانی طور پر ترقی کر سکتا ہے۔یہ صیح ہے کہ بعض چیزیں ہمیں نہیں ملیں ان میں نقص آ جاتے ہیں۔یہ صحیح ہے کہ انسان کمزور ہے ہماری تربیت میں نقص رہ جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے فرما یارب غَفُورٌ ہمیں تو کوئی حجاب نہیں اس