انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 689
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطِنِ الرَّحِيمِ آیت ا تا ۲ ۶۸۹ سورة الفيل بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الفيل بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ D الم تر كيف فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحُبِ الفِيلِ۔اب میں اس واقعہ کو لیتا ہوں جو گزشتہ ستمبر میں ہماری قوم اور ہمارے ملک پر گزرا۔۶ ستمبر کو ہمارے ہمسایہ ملک بھارت نے نہایت ظالمانہ طور پر اور فریب سے کام لیتے ہوئے پاکستان پر حملہ کیا۔سترہ دن تک یہ جنگ لڑی گئی۔یہ جنگ عام معمولی جنگوں کی طرح نہیں تھی بلکہ اس میں ہمیں بعض ایسی باتیں نظر آتی ہیں جو اسے ایک خاص قسم کی جنگ بنادیتی ہیں کیونکہ دوران جنگ پاکستانی قوم پر اللہ تعالیٰ کے مختلف اقسام کے افضال اور برکتیں نازل ہوتی نظر آئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا خوب فرمایا ہے۔اے دل تو نیز خاطر ایناں نگاه دار کا خیر کنند دعوی حُبّ پیمبرم آپ نے ایک موقعہ پر فرمایا۔( در ثمین فارسی صفحه ۱۰۷) اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک سورۃ بھیج کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قد راور مرتبہ ظاہر کیا ہے اور وہ سورۃ ہے اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاصْحِبِ الْفِيلِ یہ سورۃ اس حالت کی ہے کہ جب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم مصائب اور دُکھ اٹھا رہے تھے اللہ تعالیٰ