انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 643
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۴۳ سورة العلق کہ ربوبیت کرنے والا ہمارا پیارا خالق جو ہے وہ بڑا شرف رکھنے والا ہے۔اس کے شرف کی کوئی انتہا نہیں۔وہ اپنی ذات میں بھی شرف رکھتا ہے اور جہاں بھی عزت و شرف آپ کو نظر آتا ہے وہ اسی کی طرف رجوع کرتا ہے۔اور یہاں یہ بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ نوع انسانی کے علوم میں بہت زیادہ ترقی ہوئی اور انسان کی علمی ترقیات جو ہیں ان کے وسیع میدان کھولے جائیں گے اور یہ کام جیسا بعثت سے پہلے ہوتا تھا صرف اقرا سننے کے معنے میں اور آگے سنانے کے معنے میں وہاں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے علاوہ اس سے بڑھ کے ایک اور چیز آ جائے گی کہ قلم سے زیادہ کام لیا جائے گا اور جب قلم سے علم سکھائے گا اللہ تعالیٰ تو یہ جو قلم ہم لکھتے وقت ہاتھ میں پکڑتے ہیں، کانے کی کلک بھی ہے پرانی طرز کی۔نب بھی استعمال ہوئے۔اب بال پوائنٹ بھی بن گئے۔سکتے کی بھی پنسلیں بن گئیں۔وہ بھی قلم ہے۔سرخی بھی بن گئی اور بہت ساری بڑی اچھی قلمیں بن گئیں جو عرب گھوڑے کی طرح بہت دوڑنے والی ہیں۔یہ تو نہیں سکھاتی۔قلم ذریعہ بنتی ہے ایک ایسی چیز کا جس نے دنیا میں علوم کا انتشار پیدا کر دیا اور وہ ایک کتاب ہے۔قلم لکھنے کا کام کرتی ہے، قلم کچھ ظاہر کرنے کا، کچھ جو خیالات ہیں لکھنے والے کے ان کو قرطاس پر ظاہر کرنے کا کام کرتی ہے قلم۔پھر وہ اوراق جو ہیں بڑے بلند علوم کے۔بڑی اخلاقیات پر قرآن کریم کی تفاسیر کی گئیں اور قرآن کریم کے جو خزانے ہیں وہ تو نہ ختم ہونے والے ہیں۔چودہ سو سال میں ہمارے بزرگ علماء، اولیاء اللہ تعالیٰ جو معلم حقیقی ہے اس سے سیکھا اور پھر قلم سے، زبان سے بھی پہلا جو معنی ہے اقرا کا لیکن قلم سے بھی انہوں نے کام لیا اور کتب میں وہ علوم اسرار روحانی جو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے حاصل کئے تھے لوگوں تک پہنچائے اور لکھوکھا ایسی کتابیں دنیا میں لکھی گئیں جو انسان کی فلاح اور بہبود اور اس کے آرام اور سکون اور اس کے قلبی اطمینان اور اس کی ذہنی خلش کو دور کرنے والی اور خدا تعالیٰ کے قرب کی راہوں کو دکھانے والی ، اللہ تعالیٰ تک پہنچنے میں انسان کی مدد کرنے والی تھیں۔تو اعلان کیا گیا کہ ایک انقلاب عظیم سیکھنے سکھانے میں بعثت نبوی کے ساتھ شروع ہورہا ہے اور وہ الَّذِي عَلَمَ بِالْقَلَمِ خدا تعالیٰ نے اعلان کیا کہ اب میں قلم کے ذریعہ سے علم کے میدانوں میں انسان کی زندگی میں ایک انقلاب بپا کروں گا اور کتابیں لکھی جائیں گی اور کائنات کے جو حقائق ہیں،