انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 641 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 641

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطِنِ الرَّحِيمِ ۶۴۱ سورة العلق بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة العلق آیت ا تا ۶ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبَّكَ الَّذِي خَلَقَ & خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ & اِقْرَأْ وَ رَبُّكَ الْأَكْرَمُ ) الَّذِى عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمُ ان آیات کے معنی یہ ہیں۔اپنے رب کا نام لے کر پڑھ جس نے سب اشیاء کو پیدا کیا اور جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔قرآن کو پڑھ کر سنا تارہ کیونکہ تیرا رب بڑا کریم ہے۔وہ جس نے قلم کے ساتھ علم سکھایا آئندہ بھی سکھائے گا۔اس نے انسان کو وہ علم سکھایا جو وہ پہلے نہیں جانتا تھا۔اقرا کے معنے عربی زبان میں دو ہیں۔ایک لکھی ہوئی تحریر کا پڑھنا۔ہر طالب علم کتابوں سے علم حاصل کرتا ہے قرآن کریم واقع میں ایک کریم کتاب، حقیقتاً ایک عظیم کتاب اور بلا شک وشبہ ایک مجید کتاب ہے اور حکیم کتاب ہے۔اقرا کے تفسیری معنی ہیں کتاب پڑھ کے علم کو حاصل کرو اور سب سے بہتر کتاب اور سب سے مفید کتاب، سب سے زیادہ ترقیات کی طرف لے جانے والی کتاب قرآن کریم ہے۔اس لئے جس کتاب کے متعلق خصوصاً زور دے کر کہا گیا کہ پڑھو وہ قرآن کریم ہے اور پھر قرآن کریم میں ہی سچائیوں پر مشتمل کتب ہیں وہ قرآن کریم ہی کی بالواسطہ یا بلا واسطہ تفاسیر ہی ہیں۔دوسرے معنے ہیں سنو اور پھر اسے دہراؤ۔جو سنا ہے اُسے دہراؤ۔یہ علم سیکھنے کے لئے ضروری ہے کیونکہ علم سیکھنے کے لئے استاد کی ضرورت ہے۔استاد کہتا ہے، طالب علم سنتا ہے پھر اسے دہراتا ہے۔