انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 543 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 543

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۵۴۳ سورة المدثر بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ آیت ا تا ۸ تفسير سورة المدثر بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔ياَيُّهَا المُرُ قُمْ فَانْذِرُ وَ رَبَّكَ فَكَبِّرُقُ وَ ثِيَابَكَ فَطَهِّرة وَالرُّجْزَ فَاهْجُرُ وَلا تَمُنْنُ تَسْتَكْثِرُ وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرُ میرے دل میں بڑے زور کے ساتھ یہ ڈالا گیا ہے کہ جماعت احمد یہ تربیت کے جس مقام پر اس وقت کھڑی ہے۔اس مقام کے ساتھ سورۃ المدثر کی جو آیات میں نے پڑھی ہیں ان کا بڑا گہرا تعلق ہے۔اور اس میں ایک اہم پیغام ہے جماعت کے نام۔میں اس وقت اسے دوستوں کے سامنے بیان کرنا چاہتا ہوں لیکن اس سے پہلے میں ان آیات کی عام تفسیر بیان کر دوں گا۔تا دوستوں کو خدا تعالیٰ کی اس آواز کو سمجھنے میں آسانی اور سہولت ہو۔مدثر کے عربی میں یہ معنی ہیں وہ شخص جس نے وہ کپڑے پہن لئے ہوں جو کام کرنے کے لئے پہنے جاتے ہیں۔عام طور پر یہ طریق ہے خصوصاً پڑھی لکھی اور تعلیم یافتہ اقوام کا کہ گھر میں وہ کچھ اور قسم کے کپڑے پہنے ہوتے ہیں۔لیکن جب کام کے لئے باہر نکلتے ہیں تو اور کپڑے پہن لیتے ہیں۔مثلاً ہمارے ملک میں اور خصوصاً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سنت پر عمل کرنے والے افراد خاندان میں یہ طریق جاری ہے کہ باہر نکلتے وقت سر کا لباس اور کوٹ ضرور پہنا جاتا ہے۔یا مثلاً کارخانوں میں کام کرنے والے کام کی غرض سے ایک خاص قسم کا لباس پہنتے ہیں۔تو مدثر میں اسی قسم کا لباس پہننے کی طرف اشارہ ہے یعنی ایسا شخص جو کام کے لئے تیار ہوتا ہے۔