انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 213
تفسیر حضرت خلیفۃالمسیح الثالث ۲۱۳ سورة حم السجدة بیان کر دیا گیا اور یہ تعلیم صرف عرب کے رہنے والوں کو مخاطب کر کے نہیں دی گئی۔تمام عالمین کے انسان اس تعلیم کے مخاطب ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انسانی مرتبہ کو سمجھانے کے لے فرما یا۔وَ مِنْ أَيْتِهَ أَنْ خَلَقَكُم مِّنْ تُرَابِ ثُمَّ إِذَا انْتُمْ بَشَر تَنتَشِرُونَ (الروم :۲۱) اللہ تعالیٰ کی زبر دست نشانیوں اور اس کی قدرتوں کے حیرت انگیز نظاروں میں سے ایک نظارہ یہ ہے کہ اُس نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا ہے ہماری اس زمین کی ہر چیز مٹی سے پیدا ہوئی ہے مٹی کے اجزا اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت ایک خاص محسوس و مشہود شکل اختیار کر لیتے ہیں مثلاً پھلوں میں سے آم یا انگور وغیرہ ہیں۔اناجوں میں سے گندم یا جو کی یا باجرہ ہیں۔لحمیات میں سے پرندوں کا گوشت ہے، چوپایوں کا گوشت ہے اور مچھلیوں کا گوشت ہے اسی طرح کی اور بھی بے شمار مختلف چیزیں ہیں مگر دنیا کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم سے مٹی سے پیدا ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس آیہ کریمہ میں فرمایا ہے کہ اے انسان! ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا اور تمہارے وجود میں مٹی کی خلق احسن تقویم کو پہنچی ہے مٹی کی خلق جو موزوں ترین اور بہترین شکل اختیار کر سکتی تھی وہ تمہارے وجود میں کمال کو پہنچ گئی ہے۔سورۃ تین میں اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔غرض انسان کو احسن تقویم میں پیدا کیا ہے اور احسن تقویم کی شکل میں انسان بطور بشر کے ہے پھر تنتشرُونَ کہہ کر اس طرف اشارہ فرمایا کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ اشیاء کی تسخیر کے لے دنیا میں پھیلنا شروع کیا۔پہلے تم نے اپنے ماحول کی چیزوں سے فائدہ اُٹھایا پھر چونکہ تمہاری فطرت میں یہ جذ بہ رکھ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ماحول یعنی اپنے ملک کی چیزوں سے تسلی نہیں پاتی اور انسان سمجھتا ہے کہ ساری دنیا کی چیزیں اس کے لئے پیدا کی گئی ہیں اس لئے وہ ساری دنیا میں پھرنے کے لئے نکل کھڑا ہوا اور دنیا کی ہر چیز کو اس نے اپنے کام پر لگایا اور اپنے فائدہ کے لئے اُسے استعمال کیا۔در اصل بشر اس مٹی کی تخلیق کی انتہا اور روحانی تخلیق کی ابتداء ہے اور یہ وہ مقام ہے جہاں سے سیر روحانی شروع ہوتی ہے۔پھر آگے جتنی جتنی کسی میں ہمت ہوتی ہے وہ اس کے مطابق روحانی رفعتوں کو حاصل کرتا چلا جاتا ہے البتہ بشریت سے پہلے روحانی رفعتوں کے حصول کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔بشریت کے شرف سے مشرف ہونے کے بعد ہی انسانی مخلوق اللہ تعالیٰ کا قرب اور لقا کا مقام حاصل کر سکتی ہے۔