انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 97
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۹۷ سورة سبا لئے یعنی جس طرح کافر کے لئے نذیر اور بشیر ہیں اسی طرح مومن کے لئے بھی نذیر اور بشیر ہیں۔قرآن کریم بھرا پڑا ہے اس مضمون کے ساتھ اور ایک آیت میں نے اٹھائی ہے جس میں صاف، بالکل وضاحت کے ساتھ یہ ہے کہ مومنوں کے لئے آپ نذیر بھی ہیں اور بشیر بھی ہیں۔قرآن کریم میں ہے۔إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ (الاعراف: ۱۸۹) کہ میں صرف نذیر اور بشیر ہوں مومن قوم کے لئے۔تو یہ خیال کہ مومنوں کے لئے محض بشیر اور نذیر نہیں اور کافروں کے لئے محض نذیر اور بشیر نہیں یہ غلط ہے۔اگر ہم یہ سمجھ لیں کہ ایک دفعہ ایمان کا دعویٰ کر دیا پھر بشارتیں ہی بشارتیں ہیں، پھر خیر ہی خیر ہے، پھر خوشحالی ہی خوشحالی ہے، پھر اللہ تعالیٰ کی رضا ہی رضا ہے اور ہماری کوئی ذمہ داری نہیں ، ہمارے اوپر کوئی پابندیاں نہیں، گناہوں سے بچنے کے لئے ہم نے کوئی کوشش نہیں کرنی۔نیکیاں کرنے کے لئے ہم نے ہر قسم کی جدو جہد اور سعی نہیں کرنی۔یہ خیال غلط ہے۔اصولی طور پر خدا تعالیٰ نے جو لِقَومٍ يُؤْمِنُونَ مومن قوم کو جو بشارت دی وہ بڑی زبردست ہے وَ انْتُمُ الْأَعْلُونَ (ال عمران :۱۴۰) ہر شعبہ زندگی میں فوقیت تمہیں حاصل ہوگی۔اعلیٰ کا لفظ بولا ہے نا۔ہر شعبۂ زندگی میں فوقیت تمہیں حاصل ہوگی یہ بشارت ہے مگر اس کے ساتھ میں نے قرآن کریم پر بڑا غور کیا ہر بشارت کے ساتھ انذاری پہلو ساتھ لگا ہوا ہے۔اس کے ساتھ ایک انذار ہے۔ان كُنتُم مُّؤْمِنِينَ اگر تم ایمان کے عملی تقاضوں کو پورا نہیں کرو گے تو یہ بشارت تمہارے حق میں پوری نہیں ہوگی۔الافلون والی اور تیرہ چودہ سو سالہ اسلامی زندگی میں جو مسلمان ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں ان کی آپ تاریخ دیکھیں اس کے دونوں پہلو انذار کے بھی اور تبشیر کے بھی بڑے زبر دست طریقے پر پورے ہوئے۔ایمان کے تقاضے جہاں بھی پورے کئے گئے ، فوقیت بشارت کے مطابق لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ انہی کو حاصل ہوئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی وہ تو اس زمانے کا تو ہرلمحہ اس کی تائید کر رہا ہے کیونکہ آپ کی تربیت میں صحابہ رضی اللہ عنہم تھے وہ تقاضوں کو پورا کر رہے تھے ایمان کے۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی قیادت کر رہے تھے۔ہر وقت ان کی رہنمائی تھی۔جس وقت انتہائی دکھوں کی زندگی تھی ان دکھوں میں سے کامیاب نکلے۔تیرہ سالہ زندگی کے دکھ اٹھا کے پھر چند سال میں سارے عرب پر غالب آ جانا یہ کوئی معمولی معجزہ نہیں ہے۔ایسا معجزہ ہے جس کی مثال دنیا