انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 624 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 624

۶۲۴ سورة العنكبوت تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ایمان کے نتیجہ میں جب تک اسلَمتُ لِرَبِّ الْعلمين (البقرة :۱۳۲) کا مظاہرہ نہ ہو۔یعنی اس وقت تک وہ قوم الہی انعامات، فضلوں ، برکتوں اور رحمتوں کی وارث نہیں بن سکتی۔جب تک وہ ہر قسم کے فتنوں اور ابتلاؤں اور آزمائشوں میں پوری نہ اترے اور پوری طرح ثابت قدم نہ رہے۔قرآن کریم کا مطالعہ کرنے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے فتنے اور آزمائشیں تین قسم کی ہیں۔ان میں سے مومنوں کو گزرنا پڑتا ہے۔تین قسم کی آگ ہے۔جس میں اپنے رب کی رضا کے لئے انہیں چھلانگ لگانا پڑتی ہے۔اگر وہ خلوص نیت رکھنے والے ہوں اور ان کا ایمان سچا ہو۔تو اللہ تعالیٰ ان تینوں قسم کی آگوں کو ان کیلئے بردا وسلمًا (الانبیاء :۷۰) بنادیتا ہے۔اور وہ ان آزمائشوں کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بن جاتے ہیں۔(۱) پہلا امتحان اور آزمائش ( کیونکہ فتنہ کے معنی امتحان اور آزمائش کے ہیں ) وہ احکام الہی یا تعلیم الہی ہے۔جو ایک نبی اللہ تعالیٰ کی طرف سے لے کر آتا ہے اور جس تعلیم کے نتیجہ میں مومنوں کو کئی قسم کے مجاہدات کرنے پڑتے ہیں۔اپنے نفسوں کو مارنا پڑتا ہے بعض دفعہ اپنے مالوں کو قربان کرنے سے اور بعض دفعہ اپنی عرب تیں اور وجاہتیں اللہ تعالیٰ کے لئے نچھاور کرنے سے۔قرآن کریم چونکہ آخری شریعت ہے اس لئے اس نے ہمارے لئے کامل ہدایت مہیا کی۔اور ان کامل مجاہدات کے طریق ہمیں سکھائے جن پر عمل پیرا ہو کر ہم انتہائی عظیم الشان نعمتوں کے وارث بن سکتے ہیں۔اسی لئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَ نَبلُوكُم بِالشَّرِ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً وَإِلَيْنَا تُرْجَعُونَ (الانبياء : ٣٦) یعنی ہم تمہاری اکشر اور الخَیر کے ذریعہ آزمائش کریں گے۔اور آخر ہماری طرف ہی تم کو لوٹا کر لایا جائے گا۔گو یا فرما یا اگرتم اس آزمائش میں پورے اترے جسے ہم الخیر کہہ رہے ہیں۔اس سے تم نے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا اور جسے ہم اک شہر کہہ رہے ہیں اس سے تم زیادہ سے زیادہ بچے تو جب تم ہماری طرف لوٹ کر آؤ گے تو اسی کے مطابق ہماری طرف سے تمہیں اچھا بدلہ ملے گا۔قرآن کریم کے بہت سے بطون ہیں جن کے مطابق ہم اس کی بہت سی تفاسیر کرتے ہیں۔یہاں الخیر کے ایک معنی خود قرآن کریم اور اس کے اوامر و نواہی ہیں جیسا کہ فرمایا۔وَقِيلَ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا مَا ذَا انْزَلَ رَبُّكُمْ ، قَالُوا خَيْرًا لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا