انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 465 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 465

۴۶۵ مورة الكهف تغییر حضرت خلیفہ المسیح الثالث رہے لیکن اگلے پندرہ دن تاش کھیلنے میں گزار دئے۔فرمایا۔فَاسْتَقِيمُوا إِلَيْهِ اللہ تعالیٰ کی طرف انابت اور رجوع کی حالت میں استقلال اور استقامت پیدا کرو اور یہی کیفیت اعمال صالحہ کے بجالانے میں بھی پیدا کرو۔پھر یہ فرمایا وَاسْتَغْفِرُوهُ تم اپنے زور سے ایسا کر بھی نہیں سکتے اس لئے اللہ تعالیٰ کی مدد مانگو۔پس فرمایا اگر تم استقلال اور استقامت سے اعمال صالحہ پر قائم رہو گے اور اعمال صالحہ کی بجا آوری میں اپنی قوت اپنی استعداد، اپنی طاقت اور اپنی قابلیت ، اپنے تقویٰ اور طہارت پر بھروسہ نہیں کرو گے ، اللہ تعالیٰ کی ہدایت پر کار بند رہتے ہوئے اس سے مدد چاہو گے تو پھر تم اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کی لقاء کو حاصل کر لو گے۔اس کے بعد فرمایا ہے وَيْلٌ لِلْمُشرکین سورہ کہف کی آیہ کریمہ کے آخر میں فرمایا تھا لا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبَّةٍ أَحَدًا کسی اور کو شریک فی العبادة نہیں کرنا۔یہاں یہ فرمانے کے بعد کہ اعمال صالحہ بجالانے میں استقلال اور استقامت سے قائم رہنا یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کی رضا کو زور بازو سے حاصل نہیں کر سکتے۔اگر تم یہ سمجھو کہ رضائے الہی کے حصول کی طاقت خود تمہارے اندر موجود ہے توتم متکبر ہو کر خدا تعالیٰ کی نگاہ سے گر جاؤ گے۔اس لئے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے رہو اور اس سے یہ دعا کرتے رہو کہ وہ تمہاری کمزوریوں کو ڈھانپ لے اور اس نے جو طاقتیں اور قابلیتیں تمہیں عطا کی ہیں وہ انہیں اُجا گر کرے اور ان میں جلا بخشے۔اگر تم اس میں کامیاب ہو گئے تو تم نے مقصد حیات کو پالیا اگر کامیاب نہ ہوئے تو سمجھو کہ تم تو حید خالص سے بھٹک گئے۔تم نے کچھ خدا کا اور کچھ اس کے غیر کا سمجھ لیا۔تم کبھی اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکے اور کبھی غیر اللہ کے سامنے جھکے۔تم نے کبھی خدا تعالیٰ پر توکل کیا اور کبھی اس کی مخلوق یعنی انسان وغیرہ کے آگے ہاتھ پھیلا دیا۔اس صورت میں یاد رکھو وَيْلٌ لِلْمُشرکین شرک خواہ کسی قسم کا ہی کیوں نہ ہو انسان کو اللہ تعالیٰ کے غضب اور اس کے قہر کا مورد بنادیتا ہے تم اس سے بچتے رہو۔غرض اللہ تعالیٰ نے ان دو آیات میں ایک تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عظیم الشان اعلان کروایا کہ میں بھی تمہارے جیسا بشر ہوں۔بشر ہونے کے لحاظ سے مجھ میں اور تم میں کوئی فرق نہیں ہے۔اگر میں بشر ہونے کے باوجود مقرب الہی بن سکتا ہوں تو تمہارے لئے بھی یہ راہ کھلی ہے۔پس انسانی شرف اور اس کے احترام پر مشتمل اس حکیمانہ تعلیم کی موجودگی میں تم ایک لحظہ کے لئے بھی یہ کیسے سوچ سکتے ہو کہ تمہارے اور ایک غریب بھائی تمہارے اور ایک ان پڑھ بھائی تمہارے