انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 460
سورة الكهف تفسیر حضرت خلیفتہ المسح الثالث دو اور اس عظیم الشان اعلان پر مشتمل ان آیات ( انما أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ ) کو بشریت کے کمال کے ذکر سے شروع کر کے آگے سیر روحانی پر ختم کیا۔اب ایک ایسے فرد واحد نے خدائی حکم کے ماتحت یہ اعلان کیا کہ میں تم جیسا ہی بشر ہوں۔وہ خدا تعالیٰ کے قریب تر ہوا جیسا کہ خود قرآن کریم کی یہ آیہ کریمہ ہے۔فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ او ادنی (النجم :١٠) اس حقیقت کی مظہر ہے اور اس سے زیادہ قرب کسی اور فر د بشر کے لئے حاصل کرنا تو کیا اُس جتنا بھی حصول ممکن نہیں چنانچہ آپ کی علومشان پر وہ حدیث قدسی بھی روشنی ڈالتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الْأَ فَلَاكَ یعنی اے رسول ! اگر تیرا وجود پیدا نہ کرنا ہوتا، اگر تجھے دنیا کے لئے نمونہ نہ بنانا ہوتا تو میں مخلوق ہی پیدا نہ کرتا۔پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ اعلان کروایا کہ میں بھی تمہارے جیسا بشر ہوں تمہارے جیسا انسان ہوں، جہاں تک انسانی عزت ، شرف اور مرتبہ کا سوال ہے مجھ میں اور تم میں کوئی فرق نہیں کیونکہ جس طرح میں احسن تقویم یعنی بشریت کے لحاظ سے مٹی کا ایک پتلا ہوں اسی طرح تم بھی مٹی کے پتلے ہو، جس طرح میں اشرف المخلوقات کا ایک فرد ہوں اسی طرح تم بھی اشرف المخلوقات کے فرد ہو جس طرح میں سیر روحانی میں بلند سے بلند درجات پاسکتا ہوں اسی طرح تم بھی بلند سے بلند درجے حاصل کر سکتے ہو اور یہ کہہ کر ایک طرف دنیا میں انسانی عزت اور شرف کو قائم کیا اور دوسری طرف ہر فرد بشر کو اس طرف بھی متوجہ کیا کہ آخر میں بھی تمہاری طرح ایک بشر ہوں۔اگر مجھے اللہ تعالیٰ کے فضل سے بلند سے بلند مقام حاصل ہو سکتا ہے تو تمہیں بھی بلند درجہ کیوں نہیں حاصل ہو سکتا۔تم بھی خدا کی راہ میں مخلصانہ کوششیں کرو، سچی قربانیاں دو، حقیقی مجاہدہ اختیار کرو، جذ به فدائیت اور عاشقانہ ایثار کے نمونے پیش کرو خدا تعالیٰ تم سے بھی پیار کرنے لگ جائے گا، تم بھی اپنی اپنی استعداد کے مطابق اللہ تعالیٰ کی محبت اور رضا کو حاصل کر لو گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔در حقیقت یہ ایک عظیم اعلان ہے۔جب ہم اس کے متعلق سوچتے ہیں تو حیران ہو جاتے ہیں۔اس قدر عظیم اعلان بنی نوع انسان کے سامنے کیا گیا ہے جس کی عظمت کو وہی سمجھ سکتا ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو سمجھتا ہو اور اس حقیقت سے آگاہ ہو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم انسان ہوتے ہوئے بشریت کے مقام سے سیر روحانی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے قریب ہو گئے اور ایسا عظیم قرب حاصل