انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 37 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 37

۳۷ سورة المائدة تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث بھائی کے حقوق، اپنے ہم ملک کے حقوق، نوع انسانی کے حقوق ادا نہیں کرتا اور غفلت برتتا ہے تو وہ ظلم کرتا ہے۔ظلم بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ انہوں نے یہ اس آیت کی تفسیر جو لکھی ہے مطلب سمجھانے کے لئے ، وہ ایک تو جَزُوا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا (الشورى : ۴۱) ہے اور دوسرے إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظلمين خدا تعالیٰ ظلم کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔جو انسان دوسرے انسان کا حق ادا نہیں کرتا وہ خدا تعالیٰ کی محبت سے محروم ہو جاتا ہے۔تیسر ا ظلم ہے حقوق نفس کی ادائیگی میں غفلت، حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ (بخاری کتاب الصوم) تیرے نفس کے بھی اللہ تعالیٰ نے کچھ حقوق قائم کئے ہیں۔جس طرح دوسرے انسانوں کے حقوق کو بجالانا ضروری ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے حقوق کو بجالا نا ضروری ہے خدا تعالیٰ کا یہ حق جو قائم ہوا ہے اس کو بجالا نا ضروری ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ ( البقرة : ۲۳۱) اس نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے۔تو یہ تین قسم کے ظلم ہیں جن کی سزائیں مختلف ہیں۔خدا تعالیٰ کی لعنت ہے اگر خدا تعالیٰ کے حقوق توڑنے والا ہو انسان۔بڑا ظلم ہے نا شرک کرنا۔وہ واحد و یگانہ ہے۔وحدانیت کے خلاف کھڑے ہو کر کسی اور کی پرستش شروع کر دینا ، شرک جو ہے وہ بڑا وسیع مفہوم اپنے اندر رکھتا ہے۔محض بتوں کی پرستش نہیں۔اقتدار کی پرستش۔دولت کی پرستش۔جتھے کی پرستش۔اگر عالم ہے اپنے علم پر تکبر کرنا اور اپنے آپ کو کچھ سمجھ لینا وغیرہ وغیرہ ہزار قسم کے شرک ہیں اور ہر شرک خدا کو نا پسندیدہ اور خدا تعالیٰ کی لعنت کو مول لینے والا ہے۔تیسری آیت میں کہا تھا وَ مَنْ لَّمْ يَحْكُمُ بِمَا اَنْزَلَ اللهُ فَأُولَبِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ فسق کے معنے ہیں، فاسق اسے کہتے ہیں لِمَنْ الْعَزَمَ حُكْمَ الشَّرْعِ وَ أَقرَّبِہ ایک شخص نے کہا کہ میں ایمان لایا ہوں اور جو احکام ہیں اس کے مطابق میں اپنی زندگی کو ڈھالوں گا۔ثُمَّ أَخَلَّ بِجَمِيعِ أَحْكَامه او ببعضه پھر یہ جو احکام شرع ہیں ان کا حق ادا نہیں کیا اور تکفیر کی۔یعنی ان کو چھوڑ دیا تو وہ فاسق بن جاتا ہے اور اس کے اندر اطاعت سے باہر جانا بھی ہے کیونکہ ہر کافراطاعت سے باہر جا تا ہے اس لئے اس کا دائرہ بڑا بن گیا۔اس تمہید کی ضرورت اس لئے پڑگئی کہ کچھ پچھلے خطبہ میں جب میں نے اس مضمون پر بات کی تو