انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 423
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطنا ۴۲۳ سورة بنی اسراءیل بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة اسراءيل آیت ١٠ ١١ اِنَّ هُذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ الطَّلِحَتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا كَبِيرَانَ وَ أَنَّ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ أَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا ترجمہ ان دو آیات کا یہ ہے کہ یہ قرآن کریم یقیناً اس راہ کی طرف راہ نمائی کرتا ہے جوا قوم ہے اور مومنوں کو جو مناسب حال کام کرتے ہیں بشارت دیتا ہے کہ ان کے لئے بہت بڑا اجر مقدر ہے اور ( قرآن کریم یہ بھی کہتا ہے کہ ) جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ان کے لئے ہم نے درد ناک عذاب تیار کیا ہے۔( خطبات ناصر جلد ہشتم صفحه ۷۲۳) b آیت ۲۶ رَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَا فِي نُفُوسِكُمْ إِنْ تَكُونُوا صُلِحِينَ فَإِنَّهُ كَانَ لِلْاَوَّابِينَ غَفُورًا تمہارا رب تمہیں، تمہارے نفسوں کو ، تمہارے ظاہر و باطن کو، تمہارے اندرونے کو، تمہارے خیالات کو ، تمہاری خواہشات کو ، تمہارے منصوبوں کو، اور اسی طرح جب تم دوسروں سے چالاکیاں کرنے لگتے ہو تو تمہاری ان چالا کیوں کو سب سے بہتر جانتا ہے۔رَبِّكُمْ أَعْلَمُ بِمَا فِي نُفُوسِكُمْ یہ ایک بڑا اہم رشتہ ہے جو ایک بندے کا اپنے رب سے ہے۔۔۔۔۔۔۔اگر یہ عظیم ہستی یعنی اللہ تعالیٰ صرف گرفت کی صفات اپنے اندر رکھتا، صرف سزا دینا اس کی صفت ہوتی معاف کرنا اس کی صفت نہ ہوتی یا اگر وہ علم رکھتا اور بوبیت کی صفت اس میں نہ ہوتی تو ایسے علم