انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 337 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 337

۳۳۷ سورة يوسف تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث وَهُمْ مُّشْرِكُونَن تو خدا تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کے متعلق دل میں کوئی شبہ نہ رہے۔ایک اس قدر کامل ذات اور صفاتِ حسنہ سے متصف ذات کہ انسانی دماغ تو اس کی محاورہ ہے ہمارا، گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔اتنی قدرتوں کا مالک ہے اس کو خوش رکھو۔اس زندگی میں آزمائشیں بھی ہیں دکھ بھی ہیں۔قانون دوسرا بھی چل رہا ہے مگر ہر دکھ کو وہ آرام میں تبدیل کر دیتا ہے۔اب ۱۹۷۴ء میں بڑا دکھ پہنچا جماعت کو کوئی شک نہیں۔میں نے کہا تھا ہنستے رہو اس لئے کہ ہماری ہنسی کا سر چشمہ یہ بشارت ہے کہ یہ زمانہ غلبہ اسلام کا زمانہ ہے۔اس سے بڑی اور کیا خوشخبری ہمیں مل سکتی ہے اور جماعت نے ہنستے ہوئے مسکراتے ہوئے وہ زمانہ گزار دیا اور ہر لحاظ سے اس قدر ترقی کی ہے کہ دنیوی لحاظ سے دنیا دار نگاہ دیکھتی اور حیران ہوتی ہے۔( خطبات ناصر جلد ہشتم صفحه ۷۰۲ تا ۷۰۴)