انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 190
19+ سورة الانفال تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث کسی عمارت میں کئی منزلوں تک سیڑھیاں چڑھ رہی ہوں تو ایک جگہ آکر ایک حصہ سیڑھیوں کا ختم ہو جاتا ہے اور ایک نیا سلسلہ شروع ہوتا ہے) تم پہنچ گئے کچھ رفعتوں کو تم نے حاصل کر لیا ہے اب ایک باب تمہاری زندگی کا ختم ہو گیا ہے نیا باب اس عزم اور ہمت اور دعا اور توجہ سے شروع کرو کہ سال گزرنے کے بعد ہم اس سے بلند مقام پر ہوں گے نیچے نہیں گریں گے اور نہ ہی موجودہ جگہ پر ٹھہریں گے پھر یہ باب بھی ختم ہو جاتا ہے پھر اگلا باب شروع ہوتا ہے یہاں تک کہ اعمال نامہ کی کتاب کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور ہمیں ہدایت دی گئی ہے کہ پہلے دن سے آخری دن تک یہ دعا کرتے رہو کہ اے خدا! ہمارا انجام بخیر ہو کیونکہ ایک شخص اپنی زندگی کے ایک حصہ میں جتنا جتنا روحانی طور پر بلند ہوتا ہے اتنا ہی اس کے لئے زیادہ خطرہ ہے کہ اگر وہ گرا تو اس کی ہڈی پسلی قیمہ کی طرح پس جائے گی پانچ فٹ کی بلندی سے کوئی گرے تو اسے تھوڑی چوٹ لگتی ہے لیکن اگر کوئی چار منزلوں کی بلندی سے گرے تو اس کے لئے بچنا مشکل ہو جاتا ہے پس جہاں انسان کے لئے رفعتوں کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور مقامات قرب اسے عطا کئے جاتے ہیں وہاں اس کو بُرے انجام سے ڈرایا بھی جاتا ہے اور اسے کہا جاتا ہے کہ انجام بخیر کی دعا کرو کیونکہ اگر کسی وقت بھی شیطان کا حملہ تم پر کامیاب ہو گیا تو تمہیں زیادہ خطرہ ہے تم خدا تعالیٰ کی لعنت اور غضب کے نیچے دوسروں کی نسبت زیادہ آؤ گے۔جولوگ دین العجائز اختیار کرتے ہیں آپ مشاہدہ کریں گے کہ ان میں سے بھاری اکثریت ایسے لوگوں کی ہوتی ہے کہ شیطان ان کی طرف توجہ ہی نہیں کرتا وہ سمجھتا ہے کہ ابھی بہت تھوڑا پیارا اللہ تعالیٰ کا انہوں نے حاصل کیا ہے ابھی یہ نچلے درجہ میں ہیں اگر میں انہیں جھنجھوڑوں تو اس کا کیا فائدہ ہوگا گوشیطان چھیڑ تا توان لوگوں کو بھی ہے لیکن ان میں سے اکثر دین العجائز اختیار کرنے کی وجہ سے بچ جاتے ہیں مگر جتنا جتنا کوئی بلند ہوتا ہے اتنا ہی بلعم باعور بننے کا خطرہ اس کیلئے پیدا ہو جاتا ہے اور اس کی بیبیوں نہیں سینکڑوں مثالیں ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی ہمیں اس کی مثال ملتی ہے کہ ایک شخص نے اللہ تعالیٰ کے قرب کا مقام بھی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پیار اور قرب کا مقام بھی حاصل کیا لیکن بعد میں ٹھوکر لگی اور کہیں سے کہیں گر گیا غرض زندگی کا ایک باب لیلتہ القدر کو ختم ہوتا ہے پھر خدا کہتا ہے دعا کرو کہ آئندہ باب زندگی کا جب ختم ہو تو اس سے اچھا نتیجہ نکلے تم میری نگاہ میں میرے زیادہ پیار کے مستحق قرار پاؤ اور وہ لیلتہ القدر تمہارے لئے انفرادی طور پر اس سے بہتر لیلتہ القدر بن